Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

3066 -[26]

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَرِثُ الْوَلَاءَ مَنْ يَرِثُ الْمَالَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ

روایت ہے حضرت عمرو بن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ولاء کا وارث وہ ہی عصبہ ہوگا جو مال کا وارث ہوگا ۱؎ (ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا اس حدیث کی اسنادقوی نہیں۔

۱؎  ولا واؤ کے فتح سے بمعنی قرب،یہاں قرب عبدیت مراد ہے جس سے مولٰی کو غلام کے متروکہ مال کے وارث ہونے کا حق حاصل ہوتا ہے۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس غلام کو مولٰی نے آزاد کیا تو غلام کے فوت ہونے پر اگر مولٰی زندہ ہوتو وہ میراث لے گا ورنہ اس کے عصبہ بنفسہ وارثین میراث لیں گے،مولٰی کی زوجہ کو ولاء نہیں ملتی،عورت صرف اپنے آزاد کردہ غلام یا اس غلام کے آزاد کردہ غلام ہی کی میراث پائے گی،عصبۃً ولاء نہ پائے گی کہ زوجہ عصبہ ہوتی ہی نہیں،ولاء بیت المال کو نہیں ملا کرتی۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3067 -[27]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا كَانَ مِنْ مِيرَاثٍ قُسِّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ عَلَى قِسْمَةِ الْجَاهِلِيَّةِ وَمَا كَانَ مِنْ مِيرَاثٍ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ فَهُوَ عَلَى قِسْمَةِ الْإِسْلَامِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو میراث زمانہ جاہلیت میں بانٹی جاچکی تو وہ جاہلیت ہی کے بٹوارے پر رہے گی اور جس میراث کو اسلام نے پالیا تو وہ اسلام کی بانٹ پر ہوگی ۱؎ (ابن ماجہ)

۱؎ اس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ جن کفار نے اپنے دین کے مطابق میراثیں تقسیم کرلی تھیں پھر وہ مسلمان ہوگئے یا ان میں سے ایک مسلمان ہوگیا تو اب اسے تقسیم شدہ مال دوبارہ تقسیم کرنے کا حکم نہ دیا جائے گا بلکہ اس تقسیم کو باقی رکھا جائے گا یا یہ مطلب ہے کہ وارثت کے اسلامی احکام آنے سے پہلے جوتقسیم میراث ہوچکی ہیں اگرچہ مسلمانوں ہی نے کی ہوں وہ اسلامی قانون وراثت آنے پر توڑی نہ جائیں گی بلکہ باقی رکھی جائیں گی،ہاں اب اس کے بعد جو تقسیم ہوگی وہ اسلامی قانون کے مطابق ہوگی،دیکھو آج اگر کافر جوڑا اسلام لائے تو انہیں دوبارہ نکاح کرنے کا حکم نہیں دیا جاتا کہ چونکہ تمہارا کفر کا نکاح اسلامی قانون کے مطابق نہ ہوا تھا لہذا اب پھر دوبارہ ایجاب و قبول کرو بلکہ وہ ہی باقی رکھا جاتا ہے ایسے ہی یہ حکم ہے۔

3068 -[28]

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ كَثِيرًا يَقُولُ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ: عَجَبًا لِلْعَمَّةِ تُورَثُ وَلَا تَرث. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت محمد ابن ابوبکر ابن حزم سے ۱؎ کہ انہوں نے اپنے والد کو بہت بار یہ کہتے سنا کہ حضرت عمر ابن خطاب فرماتے تھے تعجب ہے پھوپھی پر کہ وارث تو کردیتی ہے مگر خود وارث نہیں ہوتی ۲؎ (مالک)

۱؎ محمد تبع تابعین سے ہیں،ان کے والد ابوبکر ابن حزم تابعین سے ہیں۔(اشعۃ اللمعات)

۲؎ یعنی ازروئے قیاس یا تو پھوپھی بھی بھتیجہ کی وراثت عصبۃً پاتی یا بھتیجہ بھی پھوپھی کا وارث نہ ہوتا بلکہ ذی رحم ہوتا مگر حکم شرعی کے آگے سرخم ہے،بھتیجہ پھوپھی کا عصبہ ہے مگر پھوپھی بھتیجہ کی ذی رحم۔خیال رہے بھتیجہ تو عصبہ ہے مگر بھتیجی ذی رحم ہے اور یہاں وراثت سے مراد عصبۃً ہے ورنہ پھوپھی بھی بھتیجے کی ذی رحم وارث تو ہے۔اس حدیث سے ان لوگوں نے دلیل پکڑی ہے جو ذی رحم کو وارث نہیں مانتے،وہ حضرات اس جملہ کے معنی یہ کرتے ہیں کہ پھوپھی بالکل وارث نہیں ہوتی کیونکہ وہ ذی رحم ہے مگر وہ ہی مطلب قوی ہے جو ابھی عرض کیا گیا۔

 



Total Pages: 445

Go To