Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎ یعنی آزاد کردہ غلام بھی عصبہ سببی ہونے کی وجہ سے وارث ہے کہ اگر اوپر کے وارث نہ ہوں تو اسے میراث ملے گی۔

3045 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُم» وَذُكِرَ حَدِيثُ عَائِشَةَ: «إِنَّمَا الْوَلَاءُ» فِي بَابٍ قبل «بَاب السّلم»

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قوم کا بھانجہ ان ہی سے ہے ۱؎ (مسلم،بخاری)اور حضرت عائشہ کی حدیث "انما الولاء" باب السلم سے پہلے والے باب میں ذکر کردی گئی اور حضرت براء کی حدیث کہ خالہ ماں کے درجے میں ہے ان شاءاﷲ بچے کے بلوغ اور ان کی پرورش کے باب میں ذکر کی جائے گی ۲؎

۱؎ یعنی بھانجہ بھی ذی رحم ہونے کی وجہ سے وارث ہے کہ اگر ذی فرض و عصبہ وارث نہ ہو تو اسے میراث مل سکتی ہے،یہ ہی قول امام اعظم و احمد کا ہے،دوسرے اماموں کے ہاں ذی رحم وارث نہیں،یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے۔خیال رہے کہ ذی رحم دس قسم کے ہیں:(۱)نواسے(۲)بھانجے(۳)بھتیجی(۴)چچا کی بیٹی(۵)پھوپھی کی بیٹی (۶)ماموں(۷)خالہ(۸)نانا(۹)ماں کا چچا(۱۰)پھوپھی،اخیافی بھائی کی اولاد۔(مرقات)پوری تفصیل ہماری کتاب"علم المیراث"میں ملاحظہ فرمائیے۔

۲؎ یعنی یہ دو حدیثیں مصابیح میں یہاں تھیں ہم نے مناسبت کی وجہ سے ان مقامات میں درج کیں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3046 -[6]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه

3047 -[7] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيّ عَن جَابر

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دو مختلف دین والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ۱؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ اور ترمذی نے حضرت جابر سے روایت کی)

۱؎  شتّٰی شتیت سے بنا بمعنی متفرق،حق یہ ہے کہ شتّٰی ملّتین کی صفت ہے نہ کہ اھل کی۔مختلف دین سے مراد کفر و اسلام ہے اس کی شرح ابھی گزری ہوئی پہلی حدیث ہے جس میں ارشاد ہوا کہ کافر مؤمن کا وارث نہیں،یہ امام اعظم کا قول ہے مگر امام شافعی کے ہاں یہ حدیث بالکل ظاہر پر ہے،وہ اس حدیث کی بنا پر فرماتے ہیں کہ یہودی عیسائی کا وارث نہیں اور عیسائی یہودی کا وارث نہیں،یوں ہی مشرک مجوسی اور مجوسی مشرک کا وارث نہیں،بعض علماء نے فرمایا کہ اہل کتاب تو ایک دوسرے کے وارث ہیں مگر مشرک مجوسی اوراہل کتاب ایک دوسرے کے وارث نہیں لہذا عیسائی،یہودی کی میراث مجوسی یا بت پرست نہیں پائے گا،وہ حضرات ملتین کے معنی آسمانی اور غیر آسمانی دین کرتے ہیں مگر مذہب احناف قوی ہے،اولًا تو اس لیے کہ اس حدیث کی شرح خود حضور انور نے فرمادی کہ کافر مؤمن کا اور مؤمن کافر کا وارث نہیں،خود صاحب حدیث کی شرح دوسری شرحوں سے اعلٰی ہے۔دوسرے یہ کہ حضور نے فرمادیا الکفر ملّۃ واحدۃ کفر ایک ہی دین ہے،تو دنیا میں دو ہی دین ہوئے کفر یا اسلام،انہیں ملّتین فرمانا بالکل درست ہوا۔خیال رہے کہ مانعِ میراث چار چیزیں ہیں:اختلاف دین،اختلاف ملک(مگر کفار کے لیے)قتل عبدیت۔

 



Total Pages: 445

Go To