Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب الفرائض

باب میراث کے حصّے  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ فرائض فریضہ کی جمع ہے جو فرض سے بنا بمعنی قطع و کاٹنا،اصطلاح میں میت کے متروکہ مال کے معین حصہ کو فریضہ کہتے ہیں کہ وہ بھی مال سے کاٹ کردیا جاتا ہے۔مسائل میراث کے علم کو علم الفرائض کہتے ہیں،اور میراث جاننے والے کو بھی فرضی یا فارض کہتے ہیں۔حدیث شریف میں افرضکم زید تم میں زیادہ علم میراث جاننے والے حضرت زید ابن ثابت ہیں۔(مرقات)

3041 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَمْ يَتْرُكْ وَفَاءً فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ. وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ».وَفِي رِوَايَة: «من ترك دينا أَو ضيَاعًا فَلْيَأْتِنِي فَأَنَا مَوْلَاهُ».وَفِي رِوَايَةٍ: «مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا میں مسلمانوں کا ان کی جانوں سے زیادہ والی ہوں ۱؎ جو مرجائے اور اس پر قرض ہو جس کی ادا کا ذریعہ نہ چھوڑے اس کی ادائیگی مجھ پر ہے۲؎ اورجو مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے۳؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جو قرض یا بال بچے چھوڑے تو میرے پاس آئے ۴؎ تو میں اس کا والی ہوں ایک روایت میں یوں ہے کہ جو مال چھوڑے تو اس کے وارثوں کا ہے اور جو بوجھ چھوڑ دے وہ ہمارے ذمہ ہے۵؎(مسلم،بخاری)

۱؎ اس فرمان عالی میں اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے"اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیۡنَ مِنْ اَنۡفُسِہِمْ"اور اولٰی کے معنی ہیں زیادہ قریب،زیادہ والی وارث،زیادہ خیرخواہ،زیادہ مالک،یہاں شیخ نے اولٰی کے معنی زیادہ خیر خواہ کئے یعنی جس قدر مسلمان اپنے خیرخواہ ہیں اس سے زیادہ میں ان کا خیرخواہ ہوں،میں نہیں چاہتا کہ میرا کوئی امتی بعد موت قرض میں گرفتار رہے۔

۲؎ یعنی سارے مقروض نادار مسلمانوں کا قرض ان کی موت کے بعد ہم ادا کریں گے خواہ مدینہ کے مسلمان ہوں یا کسی اور جگہ کے تاکہ میری امت بارگاہ الٰہی میں گرفتار نہ رہے۔

۳؎ یعنی اگر مال چھوڑے اور اس پر قرض نہ ہو تو مال وارثوں اور اگر قرض بھی ہو تو ادائے قرض کے بعد سب مال وارثوں کا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ قرض کا ذکر کیوں نہ فرمایا،میراث بعد ادائے قرض تقسیم ہوتی ہے کیونکہ قرض کا ذکر تو پہلے ہوچکا۔

۴؎ میت کا وصی یا اس کا وکیل میت کے بال بچوں کی ہم کو خبر دے ہم قرض ادا فرمائیں گے اس کے بال بچوں کو پالیں گے۔ضیاع جمع ضائع کی ہے جیسے جائع کی جمع جیاع،ضائع کے معنی ہیں برباد ہوجانے والی چیز جس کے برباد ہونے کا خطرہ ہو جیسے چھوٹے بچے یا بیوہ عورت جو دوسرا نکاح نہ کرسکے ان سب کو حضور پالتے ہیں،بیوگان اور یتیموں کے والی وارث حضور ہی تھے اور ہیں۔

۵؎  کلّ یعنی بوجھ سے مراد قرض اور چھوٹے بچے بیوہ بیوی ہے اس کی شرح پہلی حدیث میں گزری،رب تعالٰی فرماتاہے:"بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ"حضور انور مسلمانوں پر بڑے مہربان رحمت والے ہیں،یہ اس ہی کی رحمت کا ظہور ہے۔خیال رہے کہ حضور انور کی



Total Pages: 445

Go To