$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

ف کبھی تراخی کے لیے بھی آجاتی ہے ایسے ہی یہاں حضرت علی کو اعلان وغیرہ کے بعد لقطہ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی لہذا حق یہی ہے کہ لقطہ کا اعلان ضروری ہے۔

۲؎  اس سے معلوم ہوا کہ لقطہ وہ بھی کھاسکتا ہے جو صدقہ نہیں کھا سکتا یعنی بنی ہاشم۔بعض حضرات نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ لقطہ غنی بھی کھاسکتا ہے،دیکھو حضرت علی بھی غنی تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تو غنی گر مگر ان دونوں بزرگوں نے لقطہ کھایا لیکن یہ استدلال ضعیف ہے کیونکہ لقطے کے بارے میں غنی سے مراد وہ ہے جو چاندی سونے وغیرہ کا صاحب نصاب ہو،یہ غنا یعنی چاندی سونے کا اجتماع ان دونوں گھروں میں اس وقت تو کیا کبھی بھی نہ ہوا۔حضرت علی مرتضٰی نے اپنے زمانہ خلافت میں اپنی تلوار گروی رکھی اور فرمایا کہ اگر میرے گھر میں ایک وقت کا بھی کھانا ہوتا تو میں تلوار کبھی گروی نہ رکھتا،یہ حضرات انسانی لباس میں فرشتے تھے۔شعر

شیرنر در پوستین برہ                                                 آفتابے در لباس ذرہ

حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے جب دنیا سے پردہ فرمایا تو آپ کی زرہ گروی تھی۔شعر

سلام اس پرکہ جس کے گھرمیں چاندی تھی نہ سوناتھا

سلام  اس   پر کہ   ٹوٹا   بوریا    جس    کا   بچھونا    تھا

لہذا یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں،حق یہی ہے کہ غنی لقطہ نہیں کھاسکتا۔(ازمرقات)

۳؎ غالبًا اس عورت کی صداقت وحی یا دیگر دلائل سے معلوم ہوگئی ہوگی،ورنہ بغیرتحقیقات کسی کو لقطہ کا مالک نہیں مانا جاتا جیساکہ گزشتہ احادیث سے معلوم ہوا لہذا یہ حدیث نہ گزشتہ احادیث کے خلاف ہے نہ حکم فقہی کے مخالف۔

3038 -[6]

وَعَنِ الْجَارُودِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت جارود سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کی چنگاری ہے ۲؎(دارمی )۳؎

۱؎ آپ کا نام جاردو ابن معلی ہے،       ۹ھ؁  میں وفد عبدالقیس کے ساتھ آپ حاضر بارگاہ ہوئے،پھر اولًا بصرہ میں بعد میں فارس میں مقیم رہے،بزمانہ فاروق     ۲۱ھ؁  میں وفات پائی۔(اشعہ )

۲؎ یعنی جو مسلمان کی گمی چیز بدنیتی سے اٹھائے کہ مالک کو پہنچانے کاارادہ نہ ہو خیانت کی نیت ہو وہ  دوزخی ہے اگرچہ ذمی کافر کا لقطہ بھی کھانا جائز نہیں مگر مسلمان کےلقطہ میں ڈبل عذاب ہے اس لیے خصوصیت سے اس کا ذکر ہوا۔

۳؎ یہ حدیث،احمد،ترمذی،نسائی،ابن حبان نے انہی جارود سے بروایت عبداﷲ ابن شخیر نقل کی اورطبرانی نے عصمہ ابن مالک سے۔

3039 -[7]

وَعَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوِي عَدْلٍ وَلَا يَكْتُمْ وَلَا يُغَيِّبْ فَإِنْ وَجَدَ صَاحِبَهَا فَلْيَرُدَّهَا عَلَيْهِ وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے حضرت عیاض ابن حمار سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو پڑی چیز پائے تو ایک یا دو عادلوں کو گواہ بنائے ۲؎ نہ اسے چھپائے نہ غائب کرے ۳؎ پھر اگر اس کا مالک ملے تو اسے لوٹا دے ورنہ وہ اﷲ کا مال ہے جسے چاہے دے ۴؎ (احمد) (ابوداؤد،دارمی)

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html