Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۲؎  اس جملہ کے  کئی معنی ہو سکتے ہیں:ایک یہ کہ حاجی کی گمی چیز کے مالک کبھی نہ ہو بلکہ اس تک پہنچا ہی دو۔دوسرے یہ کہ زمانہ حج میں حجاج کی گری چیز نہ اٹھاؤ بلکہ جہاں چیز پڑی ہو وہاں ہی اعلان کرو کیونکہ بعد میں اعلان کرنا مفید نہیں کہ حجاج بہت جلد متفرق ہوجاتے ہیں۔تیسرے یہ کہ حرم شریف میں حجاج کے لقطے کے مالک کبھی نہ ہو اسے ہمیشہ امانت رہنے دو،جب کبھی حاجی آئے دے دو ورنہ پڑی رہے،یہ تیسرا قول امام شافعی کا ہے،ہمارے ہاں حرم وغیرہ کے لقطہ میں کوئی فرق نہیں اب امام شافعی کے ہاں بھی حرم کا لقطہ ضرور اٹھایا جائے اور مالک نہ ملنے پر خیرات کردیا جائے کہ اب حرم شریف میں بھی چوریاں ہونے لگیں اگر نہ اٹھایا گیا تو چوری ہو جائیگا۔(مرقات)

الفصل الثانی

دوسری فصل

3036 -[4]

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ فَقَالَ: «مَنْ أَصَابَ مِنْهُ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ وَمَنْ سَرَقَ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَهُ الْجَرِينَ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ» وَذَكَرَ فِي ضَالَّة الْإِبِل وَالْغنم كَمَا ذكر غَيْرُهُ قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ: «مَا كَانَ مِنْهَا فِي الطَّرِيقِ الْمِيتَاءِ وَالْقَرْيَةِ الْجَامِعَةِ فَعَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَأْتِ فَهُوَ لَكَ وَمَا كَانَ فِي الْخَرَابِ الْعَادِيِّ فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ عَنْهُ مِنْ قَوْله: وَسُئِلَ عَن اللّقطَة إِلَى آخِره

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے ۱؎ وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ سے لٹکے ہوئے پھل کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا جو ضرورت مند ان میں سے کچھ لے لے کہ اسے ذخیرہ نہ کرے تو اس پر حرج نہیں ۲؎ اور جو ان میں سے کچھ لے کر نکل جائے اس پر ڈبل تاوان بھی ہے اور سزا بھی ۳؎ اور جو ان میں سے خرمن میں پہنچنے کے بعد چرالے پھر وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے تواس پر ہاتھ کٹنا ہے ۴؎ اور گمے ہوئے اونٹ اور بکری کے بارے میں وہ ہی ذکر کیا جو دوسروں نے بیان کیا ۵؎ اور آپ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا جو آباد راستہ اور بڑی بستی میں ملے تو ایک سال تک اس کا اعلان کرو ۶؎ اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دو اور اگر نہ آئے تو وہ تمہاری ہے ۷؎ اور جو پرانے ویرانے میں ہو تو اس میں اور دفینہ میں پانچواں حصہ ہے ۸؎(نسائی)اور ابوداؤد نے انہی عمرو ابن شعیب سے روایت یہاں سے آخر تک کی وسئل عن اللقطۃ۔

۱؎ عمرو بن شعیب  کے دادا  کا  نام عبد اللہ عمرو ابن عاص ہے،یہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ عمرو ابن شعیب کی تمام روایات میں تدلیس ہے خبر نہیں کہ جدّہٖ کی ضمیر کدھر لوٹتی ہے عمرو کی طرف یا ابیہ کی طرف  اسلئے ان کی احادیث سے مسائل شرعیہ بغیر تائید  دوسری حدیث ثابت نہیں ہوتے۔

۲؎  اسکی شرح باب الغصب میں گزر گئی کہ بھوکا آدمی جو بُھوک سے مر رہا ہو وہ مالک باغ سے بغیر پوچھے پھل توڑ کر بقدر ضرورت کھاسکتا ہے اور پیسہ ملنے پر  اس کی قیمت ادا کردے لہذا لاشیئ سے مراد  لا اثم ہے یعنی اس پر گناہ نہیں کہ ایسی مجبوری کی حالت میں مردار کھانا بھی درست ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:" فَمَنِ اضْطُرَّ فِیۡ مَخْمَصَۃٍ

۳؎ یعنی جو شخص یہ پھل لیکر باغ سے نکلے وہ خائن غاصب ہے،اس پر دو سزائیں ہیں:ڈبل قیمت، قاضی جو چاہے سزا دے۔ امام احمد کے ہاں اسی پر عمل ہے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی اپنے زمانہ خلافت میں یہ ہی حکم دیتے تھے،ہمارے ہاں یہ حدیث منسوخ ہے اول اسلام میں تھی کیونکہ مالی جرمانہ



Total Pages: 445

Go To