Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

منہ"یعنی ہبہ کرنے والا اپنے ہبہ کا حقدار ہے جب تک کہ اس کا عوض نہ لے لےاور یہ حدیث تو حرمت رجوع پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ قے کتے پر حرام نہیں،یہ تشبیہ صرف نفرت دلانے کے لیے ہے۔بشیر نے اپنے بیٹے نعمان کو باغ ہبہ کیا حضور نے فرمایا واپس لے لو جیسا کہ آگے آرہا ہے،حضرت عبداﷲ ابن عمر نے کسی کو گھوڑا ہبہ دیا تھا پھر اس سے واپس خریدنا چاہا،حضور نے فرمایا مت خریدو،وہاں بھی یہی کتے والی مثال دی،حالانکہ اپنا ہبہ خریدنا سب کے ہاں جائز ہے،اگر یہ حدیث حرمت کی ہوتو ان احادیث کے مخالف ہوگی لہذا امام اعظم کا فرمان نہایت قوی ہے اور یہ حدیث نہ انکے خلاف ہے نہ دیگر آئمہ کی مؤید۔

۲؎ اس جملہ کے دو معنی ہوسکتے ہیں:ایک تو وہ جو ترجمے سے ظاہر ہوئے کہ اگر اس سے بدتر کوئی مثال ہمارے پاس ہوتی تو ہم وہ پیش فرماتے مگر ہے نہیں کیونکہ کوئی جانور اپنی قے نہیں کھاتا۔اس صورت میں لنا سے مراد خود اپنی ذات کریم ہے۔دوسرے یہ کہ بدترین مثال ہم لوگوں کے لیے نہیں ہونی چاہیے یعنی کوشش کرو کہ یہ کہاوت ہم پر چسپاں نہ ہو۔اس صورت میں لَنَا سے مراد عام مسلمان ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔

3019 -[4] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا فَقَالَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَأَرْجِعْهُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ قَالَ: «أَيَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟» قَالَ: بَلَى قَالَ: «فَلَا إِذن» . وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ قَالَ: أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: لَا أَرْضَى حَتَّى تشهد رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلِدِكَ مِثْلَ هَذَا؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ» . قَالَ: فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ. وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ قَالَ: «لَا أشهد على جور»

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے ۱؎ کہ ان کے والد انہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم خدمت میں لائے عرض کیا میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام دیا ہے حضور نے فرمایا کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو اسی طرح دیا ہے ۲؎ عرض کیا نہیں فرمایا تو اسے لوٹا لو۳؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ نے فرمایا کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ وہ ساری اولاد تمہاری خدمت میں برابر ہو عرض کیا ہاں فرمایا تو نہیں۴؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فرماتے ہیں مجھے میرے باپ نے کچھ عطیہ دیا تو عمرہ بنت رواحہ بولیں ۵؎ میں تو راضی نہیں حتی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو گواہ کر لو ۶؎ تو وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر آئے عرض کیا میں نے اپنے اس بیٹے کو جو عمرہ بنت رواحہ سے ہے ۷؎ ایک عطیہ دیا ہے وہ کہتی ہیں میں یارسول اﷲ آپ کو گواہ بنالوں فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بچوں کو اسی طرح دیا ہے عرض کیا نہیں فرمایا اﷲ سے ڈرو اور اپنی اولاد میں انصاف کرو ۸؎ فرماتے ہیں میرے والد لوٹ گئے پھر اپنا عطیہ واپس کرلیا اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں ظلم پر گواہ نہیں ہوتا ۹؎(مسلم،بخاری)

۱؎ آپ خود بھی صحابی ہیں آپ کے والدین بھی صحابی،آپ کی کنیت ابو عبداﷲ ہے،انصاری ہیں،اسلام میں سب سے پہلے بچے ہیں جو انصار میں پیدا ہوئے،ہجرت کے چودھویں مہینے پیدا ہوئے،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر آٹھ سال سات ماہ تھی، کوفہ میں قیام رہا،امیر معاویہ کی طرف سے حمص کے حاکم تھے،   ۶۴ھ؁  میں قتل کیے گئے۔(اکمال،اشعہ،مرقات)

 



Total Pages: 445

Go To