$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎  مطلب یہ ہے کہ تم جو مال اپنے پاس رکھنا چاہتے ہو اسے کسی کو بطور عمری یا رقبیٰ نہ دو کہ اس سے تمہارا مال بگڑ جائے گا کہ تمہیں واپس نہ ملے گا اور تمہارا مدعا پورا نہ ہوگا،یہ مطلب نہیں کہ عمری یا رقبیٰ کرنا اپنا مال بگاڑنا ہے کہ یہ تو مخلوق پر مہربانی ہے جس پر ثواب کی امید ہے لہذا مطلب واضح ہے۔

۲؎  لِلَّذِی کا لام ملکیت کا ہے یعنی عمریٰ معمرلہ کی ملکیت میں تام ہوگا کہ وہ اس کے فروخت کرنے کا بھی مجاز ہوگا اور اس کے مرنے پر وہ چیز اس کے ورثاء کو ملے گی،یہ حدیث بھی جمہور علماء کی دلیل ہے کہ عمری عاریت نہیں ہوتا بلکہ ملکیت ہوتا ہے۔حضرت امام مالک وغیرہ اسے عاریت مانتے ہیں،یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔


 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html