Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

الفصل الثانی

دوسری فصل

3013 -[6]

عَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا ترقبوا أَو لَا تُعْمِرُوا فَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا أَوْ أُعْمِرَ فَهِيَ لوَرثَته» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا نہ کسی کو کچھ بطور رقبی دو نہ بطور عمری ۱؎  جسے کچھ رقبی یا عمری دیا گیا تو وہ اس کا اور اس کے وارثوں کا ہے ۲؎ (ابوداؤد)

۱؎ رقبی ارقاب سے ہے جو مراقبۃ سے بنا،رقب گردن کو کہتے ہیں،سوچنا،انتظار کرنا رقبی کہلاتا ہے کہ وہ بھی گردن ڈال کر ہی ہوتا ہے،رقبے یہ ہے کہ کہے یہ چیز تجھے دیتا ہوں لیکن اگر تو پہلے مرجائے تو میری ہوگی اور اگر میں پہلے مرجاؤں تو مستقل تیری ہوگی، چونکہ اس صورت میں ہر ایک دوسرے کی موت کا انتظارکرتا ہے اس لیے اسے رقبی کہتے ہیں،عمریٰ کے معنی پہلے عرض ہوچکے۔ لاترقبوا کی نہی بطور مشورہ ہے نہ کہ حرمت کے لیے یا یہ مطلب ہے کہ واپسی کی نیت سے رقبی عمری نہ کرو۔

۲؎ یعنی رقبیٰ ہو یا عمریٰ چونکہ یہ ہبہ بالشرط ہے لہذا ہبہ درست ہے اور شرط باطل اور وہ شے کبھی بھی واہب کو نہ واپس ہوگی یہ حدیث جمہور علماء کی دلیل ہے کہ رقبیٰ اور ہر طرح کا عمرہ موہوب لہ کہ مستقل مالک کردیتا ہے،چونکہ حدیث مرفوع ہے لہذا موقوف کے مقابل یہ ہی راجح ہے۔

3014 -[7]

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے انہی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا عمری جائز ہے عمری والے کے لیے ہے اور رقبی جائز رقبی والے کے لیے ۱؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد)

۱؎ زمانہ جاہلیت میں عمریٰ،رقبیٰ،موہوب لہ کے مرنے پر واہب کو واپس ہوجاتا تھا،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ قاعدہ توڑ دیا،اس توڑنے کے لیے یہ ارشاد فرمایا۔لاھلھا میں ضمیر رقبیٰ یا عمریٰ کی طرف راجع ہے اور اہلِ عمری سے عمریٰ لہ مرادہے جسے ہبہ دی گئی۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3015 -[8]

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكُوا أَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ لَا تُفْسِدُوهَا فَإِنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى فَهِيَ لِلَّذِي أعمر حَيا وَمَيتًا ولعقبه» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے مال اپنے پاس محفوظ رکھو انہیں بگاڑو مت ۱؎ جسے کچھ عمری کے طورپر دیا گیا تو مرے جئے اس کا ہے اور اس کے پسماندگان کا ۲؎(مسلم)

 



Total Pages: 445

Go To