$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

3010 -[3]

وَعَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْعُمْرَى مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ عمری عمرے والے کے گھر والوں کی میراث ہے ۱؎(مسلم)

۱؎ یہ حدیث احناف کی قول دلیل ہے کہ عمری خواہ کیسا ہی ہو مطلق یا وقتی،مشروط یا غیر مشروط واہب کو نہ لوٹے گا بلکہ موہوب لہ کی موت کے بعد خود اس کے ورثاء کو ملے گا۔خیال رہے کہ عمری عمر سے بنا عمر زندگی کی مدت کو کہتے ہیں،چونکہ اس ہبہ میں موہوب کی زندگی کا ذکر ہوتا ہے اس لیے اسے عمرہ کہا جاتا ہے۔

3011 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عمرى لَهُ ولعفبه فَإِنَّهَا الَّذِي أعطيها لَا ترجع إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا لِأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيث»

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم نے جس شخص کو کچھ چیز بطور عمری دی گئی اسے اور اس کے پسماندگان کو ۱؎ تو وہ عمری اس کا ہوگا جسے دیا گیا دینے والے کو واپس نہ ملے گا ۲؎ کیونکہ وہ ایسا عطیہ دے چکا ہے جس میں وراثتیں واقع ہوگئیں ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ اس طرح کہ اس سے کہا گیا یہ چیز تاحین حیات تیری ہے اور تیرے بعد تیرے وارثوں کی،یہ پہلی قسم کا عمریٰ ہے۔ عقب قاف کے کسرہ سے ہے بمعنی پیچھے رہنے والے لوگ یعنی ورثاء خواہ اولاد ہوں یا دوسرے وارث بعض نے کہا عقب قاف کے سکون سے ہے۔

۲؎ امام مالک کے ہاں تو صرف یہ عمریٰ جس میں وارثوں کا بھی ذکر ہو واپس نہ ہوگا،جمہور علماء جیسے امام ابوحنیفہ و شافعی وغیرہم کے ہاں ہر عمریٰ کا یہ ہی حکم ہے خواہ یہ شرط لگائے یا نہ لگائے جیساکہ پہلے عرض کیا گیا۔

۳؎ خلاصہ یہ ہے کہ عمریٰ ہبہ کی قسم ہے اور ہبہ کا حکم یہ ہے کہ موہوب لہ کے بعد واہب کو واپس نہیں ہوسکتا،موت مانع رد ہے مانع رد کل سات چیزیں ہیں جو دمع خزقہ میں جمع ہیں،زیادۃ،موت،عوض خروج عن الملک،زوجیت،قرابت،ہلاکت۔

3012 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِن يَقُول: هِيَ لعقبك فَأَمَّا إِذَا قَالَ: هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ فَإِنَّهَا ترجع إِلَى صَاحبهَا

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں وہ عمری جسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جائز کیا ۱؎ وہ یہ ہے کہ کہے یہ تیرا اور تیرے پسماندگان کا ہے ۲؎ لیکن اگر یوں کہے کہ تیرے جیتے جی تیری ہے تو وہ اپنے مالک کو لوٹ جائے گی ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ جائز کہا سے مراد ہے کہ موہوب لہٗ کو اس کا مالک بنایا،دوسرا عمریٰ بھی جائز تو ہے مگر موہوب لہ اس کا مالک نہیں بنتا صرف نفع حاصل کرسکتا ہے،بعدموت واہب کو لوٹ جائے گا۔

۲؎ یعنی عمرے کی پہلی قسم تو بالاتفاق درست ہے۔

۳؎ یہ حدیث امام مالک و امام زہری کی دلیل ہے کہ اگر عمرے میں وراثت کا ذکر نہ ہو تو دینے والے کی طرف لوٹ جاتا ہے،ان کی دلیل وہ حدیث جابر ہے جو مرفوعًا فرمائی اَلعمری میراثٌ لِاَھلِہَا عمری معمرلہ کی میراث ہے،یہاں العمری مطلق ہے جو تینوں قسموں کو شامل ہے،رہی یہ حدیث یہ حضرت جابر کا اپنا اجتہاد ہے نہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان عالی لہذا وہ ہی حدیث قابل عمل ہے یہ مرجوح ہے۔(اشعہ و مرقات)

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html