Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎  عضد ضاد اور دال کے فتح سے یا ضاد کے پیش سے،کھجور کی وہ شاخ یہاں تک ہاتھ پہنچ جائے اور اس کے پھل ہاتھ سے توڑے جاسکیں یعنی انکے کھجور کی ایک نچلی شاخ ان کے پڑوسی انصاری کے باغ میں پہنچ گئی تھی جس کے سبب انہیں اس باغ میں جانا ہوتا تھا۔

۲؎ یعنی حضرت سمرہ اپنے اس شاخ کے پھل لینے اس کے باغ میں جاتے تو صاحب باغ کو بے پردگی وغیرہ کی وجہ سے اذیت ہوتی ہے۔

۳؎ طلب کے بعد الٰی سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور نے حضرت سمرہ کو انکے گھر سے اپنی بارگاہ عالی میں بلایا۔ لیبیعہ میں لام بلانے کی علت ہے یعنی اس لیے بلایا کہ حضرت سمرہ وہ درخت کھجور یا اس کی وہ شاخ جو انصاری کے باغ میں تھی اس انصاری کے ہاتھ فروخت کردیں تاکہ وہ انصاری یہ شاخ کاٹ دیں اور ان کا آنا جانا بند ہوجائے،اس لیے نہ فروخت کیں کہ انصاری اس شاخ کے پھل کھایا کریں کہ یہ ممنوع ہے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ بغیر مدعی علیہ کا بیان لیے ہوئے فیصلہ نہ کرنا چاہیے۔دوسرے یہ کہ مدعی علیہ کے پاس سمّن بھیجنا،اس کی تعمیل کرانا سنت سے ثابت ہے اس کی اصل یہ ہی حدیث ہے۔

۴؎ یعنی اولًا تو حضور انور نے ان سے فرمایا کہ اپنے پڑوسی انصاری سے قیمت لے کر وہ شاخ اس کے ہاتھ فروخت کردو اور انکار کرنے پر فرمایا کہ جنت لے لو اور یہ شاخ اسے ویسے ہی بغیرقیمت دے دو۔اس سے دومسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور انور کے مشورہ پر عمل کرنا بہتر ہے نہ کرنا بھی جائز ہے مگر حکم مصطفوی کی اطاعت بہرحال لازم ہے،یہ حکم نہ تھا مشورہ تھا۔دوسرے یہ کہ حضور انور جنت کے مالک ہیں،باذن پروردگار جسے چاہیں بخشیں،دیکھو حضرت سمرہ کو صرف ایک شاخ خرما کے عوض جنت کا باغ عطا فرمارہے ہیں،یہ ہے سلطنت مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم۔اس کی تحقیق ہماری کتاب "سلطنت مصطفی"میں دیکھئے۔

۵؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہو ئے:ایک یہ کہ حاکم کو رعیت کے مال میں تصرف کرنے کا حق ہے عدل قائم کرنے کے لیے،دیکھو حضرت سمرہ کے درخت کی شاخ اس انصاری پر زیادتی و ظلم کا باعث تھی تو حضور انور نے بغیر ان کی رضا کے اس کے کاٹنے کا حکم دے دیا مگر انصاری کو صرف کاٹ دینے کا حکم دے دیا،اس شاخ کی لکڑی و پھل حضرت سمرہ کے ہی ہوں گے وہ انصاری نہ لے سکیں گے۔دوسرے یہ کہ حضرات صحابہ کرام نے اخلاق و مروت آہستہ آہستہ سیکھے بچہ اسکول میں پہنچتے ہی بی۔اے نہیں پاس کرلیتا،ابھی حضرت سمرہ نئے نئے حاضری بارگاہ سے مشرف ہوئے تھے،آداب سے پورے پورے واقف نہ تھے پھر یہ ہی صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارہ پرجان نثار کرتے تھے لہذا اس حدیث سے صحابہ کی سرتابی ثابت نہیں ہوسکتی۔

۶؎ یعنی مصابیح میں یہ دونوں حدیثیں اس جگہ تھیں،ہم نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے ایک حدیث تو پیچھے بیان کردی اور دوسری حدیث آگے بیان کریں گے۔

الفصل الثالث 

تیسری فصل

3007 -[17]

عَن عَائِشَة أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: «الْمَاءُ وَالْمِلْحُ وَالنَّار» قَالَت: قلت: يَا رَسُول الله هَذَا الْمَاءُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا بَالُ الْمِلْحِ وَالنَّارِ؟ قَالَ: «يَا حميراء أَمن أَعْطَى نَارًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا أَنْضَجَتْ تِلْكَ النَّارُ وَمَنْ أَعْطَى مِلْحًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا طَيَّبَتْ تِلْكَ الْمِلْحُ وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَةً وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ لَا يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَحْيَاهَا» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت عائشہ سے انہوں نے عرض کیا یا رسول اﷲ کون سی چیز ہے جس کا منع کرنا حلال نہیں۱؎ فرمایا پانی نمک اور آگ ۲؎ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ پانی کو تو ہم سمجھ گئے مگر نمک اور آگ کا یہ حکم کیوں ہے ۳؎ فرمایا اے حمیراء۴؎ جس نے کسی کو آگ دی اس نے گویا اس آگ سے پکا ہوا سارا کھانا خیرات کیا اور جس نے کسی کو نمک دیا اس نے گویا سارا وہ کھانا خیرات کیا جسے اس نمک نے لذیذ بنایا۵؎  اور جس نے کسی مسلمان کو ایک گھونٹ پانی وہاں پلایا جہاں پانی عام ملتا ہو اس نے گویا غلام آزاد کیا اور جس نے مسلمان کو وہاں ایک گھو نٹ پانی پلایا جہاں پانی نہ ملتا ہو اس نے گویا اسے زندگی بخشی ۶؎(ابن ماجہ)

 



Total Pages: 445

Go To