$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

واسطے منع کیونکہ آپ غصہ میں بھی حق ہی فرماتے تھے۔تیسرے یہ کہ جنگل اور سیلاب کا پانی کسی کی ملک نہیں  ہر شخص ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔چوتھے یہ کہ پانی دینے میں ترتیب یہ ہے کہ اوپر والا پہلے پانی دے نیچے والا بعد میں۔

2994 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تمنعوا فضل المَاء لتمنعوا بِهِ فضل الْكلأ»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بچا ہوا پانی نہ روکو تاکہ اس سے بچی گھاس روکو ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎  اس کی شرح باب ممنوع بیع کی پہلی فصل میں گزر چکی کہ رفاہ عام کی چھوٹی ہوئی زمین کی گھاس جو کاٹی نہ گئی ہو ہر ایک کا حصہ ہے یونہی ایسے جنگلوں کے پانی کسی شخص کو جائز نہیں کہ ان پر قبضہ جمائے اور دوسروں کو اس سے روکے، ہاں کاٹی ہوئی گھاس اور اپنے برتنوں میں بھرا ہوا پانی اپنی ملک ہے۔

2995 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ رَجُلٌ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا أَكْثَرَ مِمَّا أُعْطِيَ وَهُوَ كَاذِبٌ وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَرَجُلٌ مَنَعَ فَضْلَ مَاءٍ فَيَقُولُ اللَّهُ: الْيَوْمَ أَمْنَعُكَ فَضْلِي كَمَا مَنَعْتَ فَضْلَ مَاء لم تعْمل يداك «وَذُكِرَ حَدِيثُ جَابِرٍ فِي» بَابِ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا من الْبيُوع "

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تین شخص وہ ہیں جن سے قیامت کے دن اﷲ نہ کلام فرمائے گا اور نہ انہیں نظر رحمت سے دیکھے ۱؎ ایک وہ شخص جو کسی سامان پر قسم کھائے کہ مجھے پہلے اس سے زیادہ قیمت ملتی رہی حالانکہ ہو وہ جھوٹا ۲؎ اور ایک وہ شخص جو عصر کے بعد جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس قسم سے مسلمان آدمی کا مال مارے ۳؎ اور ایک وہ شخص جو بچا ہوا پانی روکے۴؎ اﷲ تعالٰی فرمائے گا کہ آج میں تجھ سے اپنا فضل روکتا ہوں جیسے تو نے بچا ہوا پانی روکا تھا جسے تیرے ہاتھوں نے نہ بنایا تھا ۵؎(مسلم،بخاری) اور حضرت جابر کی حدیث ممنوع تجارتوں کے باب میں ذکر کردی گئی ہے۔

۱؎ کلام سے کلام محبت مراد ہے اور نظر سے نظر رحمت ورنہ غضب کا کلام اور قہر کی نظر تو کفار پر بھی ہوگی۔

۲؎ یہ بیماری عام دکانداروں کو ہےکہ جب کوئی خریدار ان کے مال کی قیمت لگاتا ہے تو کہتے ہیں رب کی قسم ابھی تم سے پہلے ایک گاہک اس سے زیادہ پیسے دیتا رہا میں نے نہ دی اور سچے ایسے ہوتے ہیں کہ جب گاہک چل دیتا ہے تو پکارتے ہیں اچھا اتنے میں ہی لے جا۔خیال رہے کہ جھوٹ بولنے سے تقدیر نہیں بدل جاتی بلکہ تجربہ یہ ہے کہ سچا دکاندار خوب کماتا ہے۔

۳؎ اس کی صورت یہ ہے کہ حاکم کے ہاں ایک دعویٰ دائر ہوا،مدعی کے پاس گواہ نہ تھے مگر تھا وہ سچامدعی علیہ سے بعد عصر قسم کھانے کے لیے کہا گیا،یہ جھوٹی قسم کھا گیا اور اس کا حق مار لیا۔بعد عصر کی قید اس لیے لگائی کہ وہ وقت دن رات کے فرشتوں کے اجتماع کا ہے،دن کے جانے اوررات کے آنے کی گھڑیاں ہیں،اس وقت کفار عرب بھی جھوٹی قسم نہ کھاتے تھے،یہ بے غیرت مسلمان ہوکر اس گناہ پر دلیری کرلیتا ہے۔

۴؎ یعنی گزرگاہ عام پر غیرمملوک پانی اس کی حاجت سے زائد ہو،پھر وہ مسافروں اور جانوروں کو نہ پینے دےلہذا اس حکم سے وہ لوگ خارج ہیں جو پانی بیچ کر اپنا گزارہ کرتے ہیں کہ وہ پانی ان کے اپنے کنوئیں کا ہوتا ہے یا دور سے لایا ہوا جیساکہ عرب کی منزلوں میں دیکھا جاتا ہے۔

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html