Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

اعتبار کرو،اگر وہ کہے کہ یہ گھوڑا کرایہ کا ہے مجھے بھی کچھ دو،اس گھوڑے کو بھی کچھ دو تو بھی اس کی بات مان لو۔اسی لیے یہ حدیث کرایہ کے باب میں لائے ورنہ صدقہ کو کرایہ سے کیا تعلق۔

۲؎  یہ حدیث ابوداؤد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے طبرانی کبیر میں حضرت ہرماس ابن زیاد سے ابن عدی میں کامل میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ سائل کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار چاندی کی لگام لگائے آئے۔ (مرقات)

۳؎ حق یہ ہے کہ یہ حدیث مرسل نہیں بلکہ مسند ہے اگرچہ حضرت حسین نے حضور علیہ السلام کو بحالت سمجھ بوجھ نہ پایا مگر آپ نے یہ روایت حضرت عبداﷲ ابن عمر سے کی،شاید صاحب مصابیح کو اس پر اطلاع نہ ہوئی۔(از مرقات)مصابیح کے بعض نسخوں میں یہ لفظ نہیں ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2989 -[9]

عَنْ عُتْبَةَ بْنِ الْمُنْذِرِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ: (طسم)حَتَّى بَلَّغَ قِصَّةَ مُوسَى قَالَ: «إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ آجَرَ نَفْسَهُ ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ عَشْرًا عَلَى عِفَّةِ فَرْجِهِ وَطَعَامِ بَطْنِهِ» . رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت عتبہ ابن نذر سے ۱؎  فرماتے ہیں ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تھے کہ آپ نے سورۃ طسم پڑھی حتی کہ حضرت موسیٰ کے قصہ پر پہنچے ۲؎ فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے نفس کو اپنی پاکدامنی کی حفاظت اور اپنے پیٹ کی روٹی پر آٹھ یا دس سال اجرت پر دیا ۳؎ (احمد،ابن ماجہ)

۱؎ بعض نسخوں میں عقبہ ابن منذر ہے،بعض میں عتبہ ابن ندر،ن کا پیش دال مشدد مفتوح،بعض میں عتبہ ابن عبدسلمٰی ہے،غرضکہ ان کے نام میں بہت گفتگو ہے۔

۲؎ یعنی حضور انور نے سورۂ قصص تلاوت کی جس میں موسیٰ علیہ السلام کا حضرت شعیب علیہ السلام کے ہاں رہنا آٹھ بلکہ دس سال بکریاں چَرانا ان کی صاحبزادی صفورا سے نکاح وغیرہ مذکور ہے۔

۳؎ مقصد یہ ہے کہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے محنت مزدوری کرنا اچھا ہے سوال بُرا،بڑے سے بڑے شخص کو معمولی محنت سے عار نہ کرنی چاہیے۔خیال رہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا حضرت شعیب کی بکریاں چرانا بی بی صفورا کا مہر نہ تھا بلکہ نکاح کی شرط تھی اس لیے آپ نے فرمایاتھا"عَلٰۤی اَنۡ تَاۡجُرَنِیۡ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ"تم میری مزدوری آٹھ سال کرو،اگر مہر ہوتا تو علٰی کی بجائے ب آتی اور آپ اپنے بجائے بی بی صفورا کا ذکر فرماتے،قرآن کریم فرماتاہے:"اَنۡ تَبْتَغُوۡا بِاَمْوٰلِکُمۡ"بیویاں اپنے مالوں سے تلاش کرو لہذا مذہب حنفی بالکل حق ہے کہ مہر میں مال دینا پڑے گا خدمت زوجہ مہر نہیں بن سکتا،امام شافعی کا فرمان کہ خدمت پر نکاح درست ہے،اس آیت سے ثابت نہیں ہوتا۔خیال رہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو آٹھ دس سال بکریوں کے بہانہ سے رکھا مگر مقصود تھا انہیں اپنے پاس رکھ کر کلیم اﷲ بننے کے لائق بنانا،ڈاکٹر اقبال نے ایک شعرمیں یہ مضمون حل کردیا۔شعر

اگرکوئی شعیب آئے میسر                         شبانی سے کلیمی دو قدم ہے

2990 -[10]

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ أَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ أُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ وَلَيْسَتْ بِمَالٍ فَأَرْمِي عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ: «إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ جنہیں میں کتاب اﷲ یعنی قرآن سکھاتا تھا ان میں سے ایک شخص نے مجھے کمان دی ہے ۱؎ یہ کوئی بڑا قیمتی مال نہیں ہے اس پر میں اﷲ کی راہ میں تیر پھینکوں گا فرمایا اگر تم آگ کا ہار پہنایا جانا پسند کرتے ہو تو اسے قبول کرلو ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

 



Total Pages: 445

Go To