Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

مریض کے باندھے،اس علاج پر اجرت لیناجائز ہے(۲)قرآن کریم یا احادیث یا فتویٰ لکھنے کی اجرت لینا جائز ہے(۳)قرآن شریف کی تجارت درست ہے یعنی قرآن شریف فروخت کرنا ان مسائل پر سب کا اتفاق ہے(۴)قرأۃ قرآن تعلیم قرآن پر اجرت لینا درست ہے،اس میں امام ابوحنیفہ،امام زہری و اسحاق کا اختلاف ہے،رضی اللہ عنہم۔ان حضرات کی دلیل اگلی حدیث ہے جو آرہی ہے،باقی آئمہ کے ہاں درست ہے۔(مرقات)مگر اب تعلیم قرآن پر اجرت بھی بالاتفاق جائز ہے،متاخرین احناف کا فتویٰ بھی یہی ہے تاکہ دین ختم نہ ہوجائے۔(اشعہ)

۶؎ معلوم ہوتا ہے کہ اب تک ان حضرات نے یہ بکریاں بانٹیں اور کھائیں نہ تھیں اور واپس بھی نہ کی تھیں کہ اب تک انہیں جائز یا ناجائز ہونے کا یقین نہ تھا۔یہ ساری بکریاں دم کرنے والے کی تھیں مگر حضور انور کا ان تمام صحابہ میں تقسیم کرانااور اپنا حصہ بھی ان میں رکھنا یہ بتانے کے لیے ہے کہ یہ بڑی طبیب اور بہترین کمائی ہے جسے ہم بھی اور ہمارے صحابہ بھی کھارہے ہیں۔اس میں اشارۃً یہ بتایا گیا کہ مسافر لوگ آپس میں مل بانٹ کر چیزیں کھائیں،اکیلے کھالینا مروت اور اخلاق کے خلاف ہے۔(از لمعات ومرقات)یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنے خدام سے کچھ مانگنا نہ ناجائز،نہ اس میں کوئی ذلت،یہ تو ان خدام کے لیے باعث فخروعزت ہے۔شعر

کلاہ    گوشہ    دہقان    بآفتاب   رسید                               کہ سایہ برسرش افگند چوں تو سلطانے

الفصل الثانی

دوسری فصل

2986 -[6]

عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ عَمِّهِ قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَا عَلَى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ فَقَالُوا: إِنَّا أُنْبِئْنَا أَنَّكُمْ قَدْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ فَهَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رُقْيَةٍ؟ فَإِنَّ عِنْدَنَا مَعْتُوهًا فِي الْقُيُود فَقُلْنَا: نعم فجاؤوا بِمَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً أَجْمَعُ بُزَاقِي ثُمَّ أَتْفُلُ قَالَ: فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْنِي جُعْلًا فَقُلْتُ: لَا حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كُلْ فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت خارجہ ابن صلت سے وہ اپنے چچا سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے تو عرب کے ایک قبیلہ پر گزرے وہ لوگ بولے ہمیں خبر ملی ہے کہ تم ان محبوب کے پاس سے بڑی خیر لے کر آئے ہو ۲؎ تو کیا تمہارے پاس کوئی دوا یا دم درود ہے ہمارے ہاں ایک دیوانہ قید میں بندھا ہوا ہے ۳؎ ہم بولے ہاں چنانچہ وہ لوگ بیڑیاں پہنے ایک دیوانہ لائے میں نے تین دن تک صبح شام اس پر سورۂ فاتحہ پڑھی کہ اپنا تھوک جمع کرتا پھر اس پر تھتکار دیتا تھا۴؎ وہ تو گویا رسیوں سے کھل گیا انہوں نے مجھے کچھ اجرت پیش کی میں بولا نہیں حتی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھ لوں ۵؎ حضور نے فرمایا کھاؤ میری زندگی کی قسم یہ اجرت اسی کے لیے ہے جو جھوٹے دم سے کھائے تم نے توسچے دم سے کھایا ہے ۶؎(احمد،ابوداؤد)

۱؎ خارجہ بنی تمیم سے ہیں،تابعی ہیں،ان کے چچا کا نام معلوم نہ ہوا مگر چونکہ وہ صحابی ہیں لہذا ان کا نام معلوم نہ ہونا مضر نہیں کہ صحابہ سب عادل اور ثقہ ہیں۔(مرقات)

۲؎ غالبًا یہ حضرات اپنی قوم کے نمائندہ بن کر وفد کی شکل میں بارگاہ عالی میں حاضر ہوئے،وہاں سے واپسی پر یہ واقعہ پیش آیا اس زمانہ میں جو حضور کے پاس آتا تھا تو لوگ اس کی آنکھوں کی زیارتیں کیا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ بڑے داتا کے دربار سے آرہے ہیں، بھرے پڑے آئے ہوں گے معلوم کیا کیا لائے ہوں گے،اسی سلسلہ میں یہ لوگ بھی ان سے ملنے آئے اور عرض کیا،اب بھی ہم نے



Total Pages: 445

Go To