Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

دعویدار بن جاتے ہیں اس لیے احتیاط چاہیے کہ یہ بھی ایک قسم کا نقصان ہے اور نقصان کی صورت میں منع کرنا بلاکراہت جائز ہے۔ صاحب کتاب یہ حدیث اس باب میں اس لیے لائے تاکہ معلوم ہوکہ پڑوسی کو شفعہ کی طرح دیوار میں کیل گاڑنے کا بھی حق ہے۔

2965 -[5]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ جُعِلَ عرضه سَبْعَة أَذْرع» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم راستہ کے متعلق جھگڑو تو راستہ کی چوڑائی سات گز رکھی جائے ۱؎(مسلم)

۱؎ اس کی صورت یہ ہے کہ ایک جانب عمارتوں کی لائن بنی ہے،سامنے سفید زمین پڑی ہو،اب اس کے مقابل دوسری جانب عمارتیں بننا شروع ہوگئیں،پرانی لائن والے چوڑا راستہ چھوڑانا چاہتے ہیں مگر یہ لوگ کم تاکہ انہیں زمین زیادہ مل جائے تو سات ہاتھ یعنی پاکستانی ساڑھے تین گز چوڑا راستہ چھوڑا جائے،شریعت میں گز ڈیڑھ فٹ کا ہوتا ہے لیکن اگر پہلے ہی راستہ زیادہ چوڑا چھوٹا ہوا ہو تو اب کم کرنے کا کسی کو حق نہیں۔(لمعات و مرقات) خیال رہے کہ ذکر گلی کوچوں کا ہے،بڑی سڑکیں زیادہ چوڑی چھوڑی جائیں گی اور اگر کسی کی زمین میں دوسروں کی کوٹھری تک جانے کا راستہ ہے تو اتنی جگہ چھوڑی جائے گی کہ جنازہ اور بھری ہوئی مشک لے کر لوگ نکل سکیں۔ حق یہ ہے کہ راستوں کی چوڑائی زمان و مکان اور شہروں کے لحاظ سے مختلف ہے۔(مرقات)

الفصل الثانی

دوسری فصل

2966 -[6]

عَن سعيد بن حُرَيْث قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ بَاعَ مِنْكُمْ دَارًا أَوْ عَقَارًا قَمِنٌ أَنْ لَا يُبَارَكُ لَهُ إِلَّا أَنْ يَجْعَلَهُ فِي مِثْلِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ والدارمي

روایت ہے حضرت سعید ابن حریث سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تم میں سے جو بھی گھر یا زمین بیچے وہ اس لائق ہے کہ اسے برکت نہ دی جائے مگر یہ کہ وہ پیسہ اس کی مثل میں لگائے ۱؎ (ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ یہ فرمان عالی بالکل برحق ہے جس کا تجربہ بہت ہی کیا گیا ہے کہ زمین کا پیسہ اگر زمین میں نہ لگایا جائے تو ہوا کی طرح اڑ جاتا ہے۔ چاہیے کہ زمین فروخت ہی نہ کرے اور اگر کرے تو زمین ہی میں لگائے۔ہم نے بہت لوگ بعد میں روتے دیکھے،یہاں مرقات نے فرمایا کہ غیرمنقولی چیز کی قیمت منقولی چیزوں میں لگانا بہتر نہیں کہ غیر منقولی چیزیں نفع میں زیادہ ہیں آفات میں کم کہ انہیں نہ چور چرا سکے نہ ڈاکو لے جاسکے بلکہ زمین وغیرہ کا بیچنا ہی بہتر نہیں۔(اشعہ،لمعات ومرقات)قربان اس محبوب کے جسے ہمارے دین کی بھی فکر ہے دنیا کی بھی صلی اللہ علیہ وسلم۔طبرانی نے حضرت معقل ابن یسار سے بروایت حسن مرفوعًا روایت فرمائی کہ اگر کوئی بلا سخت ضرورت اپنا مکان بیچے تو اﷲ اس کا مال برباد کردیتا ہے۔

2967 -[7]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَتِهِ يُنْتَظَرُ لَهَا وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ. والدارمي

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ پڑوسی اپنے شفعہ کا حق دار ہے ۱؎ اس کا انتظار کیا جائے اگرچہ وہ غائب ہو جب کہ دونوں کا راستہ ایک ہو۲؎ (احمد، ترمذی،ابوؤاد،ابن ماجہ،دارمی)۳؎

 



Total Pages: 445

Go To