Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2943 -[6] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن قَتَادَة قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا مِنْ أَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ: الْمَنْدُوبُ فَرَكِبَ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ: «مَا رَأَيْنَا مِنْ شَيْءٍ وَإِن وَجَدْنَاهُ لبحرا»

روایت ہے حضرت قتادہ سے فرماتے ہیں میں نے حضرت انس کو فرماتے سنا کہ ایک دفعہ مدینہ میں دہشت پھیل گئی ۱؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ابو طلحہ سے گھوڑا مانگا جسے مندوب کہا جاتا تھا۲؎  آپ اس پر سوار ہو ئے پھر جب واپس ہوئے تو فرمایا ہم نے وہاں کچھ بھی نہ دیکھا اور ہم نے اس گھوڑے کو دریا پایا۳؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ افواہ یہ پھیل گئی کہ دشمن کا لشکر یا ڈاکو حملہ آور ہو گئے اس پر شور مچ گیا،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تن تنہا حضرت ابوطلحہ کے گھوڑے پر وہاں پہنچ گئے فرماتے جاتے تھے مت گھبراؤ میں آگیا مت گھبراؤ میں آگیا۔

۲؎  مندوب یا تو ندبٌ سے بنا بمعنی طلب اور بلاوا۔مندوب بمعنی مطلوب،مرغوب،محبوب اور یا نُدْبَۃٌ سے بنا بمعنی اثر زخم،چونکہ یہ گھوڑا بہترین تھا اوراس کے جسم میں زخم کا اثر بھی تھا اس لیے اسے مندوب کہا جاتا تھا۔(مرقات)

۳؎ یعنی وہاں حملہ وغیرہ کچھ نہیں ہوا یونہی وہم تھا اور یہ گھوڑا بہت تیز اور سبک رفتار ہے۔خیال رہے کہ یہ گھوڑا اڑیل تھا آج حضور کی برکت سے ٹھیک ہوگیا پھر ٹھیک ہی رہا۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جانور عاریۃً لے سکتے ہیں۔دوسرے یہ کہ جانور کا نام رکھنا جائز ہے۔تیسرے یہ کہ خطرناک مقام پر اکیلے پہنچ جانا بھی جائز ہے۔چوتھے یہ کہ دشمن کی تحقیق کرنا اور اس سے باخبر رہنا ضروری ہے۔پانچویں یہ کہ خوف دور ہوجانے پر لوگوں کو مطمئن کرنا سنت ہے،آج خطرہ کا بھی الارم(Alarm)ہوتا ہے اور اس کے جاتے رہنے کا بھی۔چھٹے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو رب نے بہت قوی دل عطا فرمایا تھا اور حضور بے مثل بہادر تھے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2944 -[7]

عَن سعيد بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «من أحيى أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حق» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

2945 -[8] وَرَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ عُرْوَةَ مُرْسَلًا. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت سعید ابن زید سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے کہ حضور نے فرمایا جو بنجر زمین کو آباد کرے ۱؎  وہ اس کی ہے ۲؎ کسی ظالم رگ کا اس میں کوئی حق نہیں ۳؎ (احمد،ترمذی، ابوداؤد)اور مالک نے ارسالًا حضرت عروہ سے روایت کی ۴؎ اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے ۵؎

۱؎  زمین میت  وہ زمین ہے جو نہ تو کسی کی ملکیت ہو نہ اس سے بستی کے فوائد وابستہ ہوں لہذا بستی کے قریب کی چراگاہیں،گھوڑ دوڑ کے میدان،فوجی چھاؤنیوں کی زمینیں ارض میت نہیں۔اسے آباد کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اسے قابلِ کاشت بنائے ہموار کرے،اس میں رہے باغ وغیرہ لگائے۔

۲؎ یعنی ایسی زمین کو آباد کرنے والا اس کا مالک ہوجائے گا۔صاحبین اور امام شافعی اس حدیث کو مطلق رکھتے ہیں حاکم کی اجازت کی قید نہیں لگاتے مگر امام اعظم سلطان کی اجازت ضروری فرماتے ہیں یعنی اگر حکومت کی اجازت سے آباد ہوئی ہے تو آباد کار اس کا مالک ہے ورنہ نہیں،ان حضرات کے ہاں یہ فرمان عالی مذہبی قانون ہے،امام اعظم کے ہاں سیاسی حکم تھا یعنی حضور انور سلطان تھے آپ نے لوگوں کو اجازت دی تھی کہ بنجر زمینیں آباد کرو تم مالک ہو،اگر اب بھی بادشاہ یہ اعلان کردے تو حکم نافذ ہوگا۔آج کل بعض نواب راجے اپنی ریاستیں آباد کرنے کے لیے مربعے دیتے ہیں لوگ آباد کرلیتے ہیں وہ حکم اسی حدیث سے حاصل ہے،دوسری روایت میں ہے للمرأ الّا مَاطَابَتْ بہٖ نفس بہ انسان اس زمین کا مالک ہے جس پر سلطان راضی ہو وہ حدیث اس حدیث کی شرح ہے۔(مرقات)

۳؎ یعنی اگر اس زمین میں کوئی شخص کھیت بوئے یا باغ لگائے تو آباد کرنے والا شخص اس کھیت یا باغ کو اکھڑوا سکتا ہے اپنی زمین خالی کراسکتا ہے،عرق تنوین سے ہے یعنی رگ،مراد خود رگ والا یعنی انسان ہے۔

 



Total Pages: 445

Go To