$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۴؎ یعنی گندم دکھا کر جو ملا کر نہ بیچو کہ اس میں خریدار کو دھوکا دہی ہے بلکہ اپنے کھانے کے لیے گندم میں جو ملاؤ فروخت میں جو خریدار کودکھاؤ وہ ہی دو۔

2937 -[8]

وَعَن حَكِيم بن حزَام أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِدِينَارٍ لِيَشْتَرِيَ لَهُ بِهِ أُضْحِيَّةً فَاشْتَرَى كَبْشًا بِدِينَارٍ وَبَاعَهُ بِدِينَارَيْنِ فَرَجَعَ فَاشْتَرَى أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ فَجَاءَ بِهَا وَبِالدِّينَارِ الَّذِي اسْتَفْضَلَ من الْأُخْرَى فَتصدق رَسُول الله صلى بِالدِّينَارِ فَدَعَا لَهُ أَنْ يُبَارَكَ لَهُ فِي تِجَارَته. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت حکیم ابن حزام سے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے ہاتھ ایک اشرفی بھیجی تاکہ آپ کے لیے قربانی خرید لیں انہوں نے ایک اشرفی سے مینڈھا خریدا اور اسے دو دینار میں بیچ دیا ۲؎ پھر واپس بازار آئے اور ایک اشرفی سے قربانی خریدلی پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس قربانی اور دوسری قربانی سے بچی ہوئی اشرفی لائے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اشرفی تو خیرات کردی ۳؎  اور انہیں دعا دی کہ ان کی تجارت میں ہمیشہ برکت ہو ۴؎(ترمذی،ابوداؤد)

۱؎ آپ کی کنیت ابو خالد ہے،قرشی ہیں، حضرت خدیجہ کے بھتیجے،خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے،واقعہ فیل سے تیرہ سال پہلے فتح مکہ میں ایمان لائے،مدینہ منورہ میں وفات پائی، عمر ایک سو بیس سال ہوئی،  ۵۴ھ؁  میں وفات ہوئی۔

۲؎ آپ کو یقین تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم میرے اس بیچ دینے سے ناراض نہ ہوں گے اس لیے جانور بیچ دیا ورنہ آپ صرف خریدنے کے لیے وکیل تھے نہ کہ فروخت کرنے کے۔

۳؎ آپ نے حکیم کی یہ  بیع جائز رکھی ۔اس سے معلوم ہوا کہ بعض صورتوں میں  قربانی  کے لیے خریدا ہوا جانور فروخت کرکے دوسرا جانور خرید سکتے ہیں،خصوصًا جب کہ قربانی کرنے والا غریب نہ ہو امیر ہو،یہ بھی معلوم ہوا کہ قربانی کے جانور کی قیمت سے بچا ہوا پیسہ اپنے کام میں نہ لائے بلکہ خیرات کردے تاکہ اپنا صدقہ خود نہ کھائے۔

۴؎  چنانچہ رب تعالٰی آپ کو ہمیشہ تجارتوں میں برکت دیتا تھا جو لوگ آپ کے ساتھ مل کر تجارت کرتے تھے وہ بھی مالدار ہوجاتے تھے اور بڑے بڑے تاجر آپ کے مشورہ سے بیوپار کرتے تھے۔(مرقات)


 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html