Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

الفصل الثانی

دوسری فصل

2914 -[16]

عَنْ أَبِي خَلْدَةَ الزُّرَقِيِّ قَالَ: جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا قَدْ أَفْلَسَ فَقَالَ: هَذَا الَّذِي قَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِه» . رَوَاهُ الشَّافِعِي وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوخلدہ زرقی سے ۱؎  فرماتے ہیں ہم حضرت ابوہریرہ کے پاس اپنے ایک دیوالیہ ساتھی کے متعلق گئے ۲؎  تو فرمایا کہ یہ ہی وہ واقعہ ہے جس کے متعلق رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا کہ جو شخص دیوالیہ ہوکر فوت ہو جائے ۳؎ تو خاص سامان والا اپنے سامان کا زیادہ حق دار ہے جب کہ بعینہ وہ ہی پائے ۴؎(شافعی،ابن ماجہ)

۱؎ آپ کا نام خالد ابن دینار ہے،ابو خلدہ کنیت،قبیلہ عامر ابن زریق سے ہیں جو بنی تمیم کا ایک خاندان ہے،درزی گری کرتے تھے،تابعی ہیں،ثقہ ہیں،حضرت انس ابوالعالیہ خواجہ حسن بصری سے روایات کرتے ہیں ان سے وکیع وغیرہ نے روایات لیں(مرقات،اشعہ،لمعات)

۲؎ جن پر قرض بہت ہوگیا تھا ادا کی کوئی صورت نہ تھی ان کے پاس کچھ ایسے خریدے ہوئے مال بھی تھے جن کی قیمت ادا نہ ہوئی تھی ہم نے حضرت ابوہریرہ سے دیوالیہ کے مسائل پوچھے۔

۳؎ فوت ہوجانے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اب اس سے قرض وصول ہونے کی کوئی صورت نہیں رہتی زندگی میں تو امیدتھی کہ آئندہ کما کر دے گا۔

۴؎ اس کی بحث باب الافلاس کے شروع میں گزر گئی کہ اس سے مراد یا تو امانت کی چیزیں ہیں یا وہ چیزیں جو دیوالیہ نے دیوالیہ نکلنے سے پہلے خریدیں،خیار بائع کو تھا،وہ دیوالیہ ہونے پر اپنے خیار کا حق استعمال کرسکتا ہے مگر جو چیز فروخت کرچکا ہے اس کی قیمت میں دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہوگا کہ اسے بقدر حصہ قرض وصول ہوگا۔

2915 -[17]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ» . رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مؤمن کی جان اپنے قرض میں معلق رہتی ہے ۱؎ حتی کہ اس کا قرض ادا کردیا ۲؎ (شافعی،احمد،ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ یا تو فی الحال جنت میں داخل ہونے یا نیکوں کے ساتھ ملنے یا درجات حاصل کرنے سے روکی جاتی ہے،ادائے قرض کی منتظر رہتی ہے یا قیامت میں قرض کی ادا  تک جنت میں جانے سے روکی جائے گی جب تک کہ قرض کی معافی یا کوئی اور صورت نہ ہوجائے،کتنی ہی صالح نیک ہو جنت میں داخل نہ ہوسکے گی۔

۲؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس قرض سے وہ قرض مراد ہے جو انسان بغیر ضرورت کے لے لے اور ادا نہ کرنے میں بلاوجہ ٹال مٹول کرے اور مرتے وقت ادا کے لیے مال نہ چھوڑے اگر ان تین شرطوں میں سے ایک شرط بھی نہ ہو تو اﷲ تعالٰی کے فضل سے امید ہے کہ اسے محبوس نہ کرے گا جیساکہ دوسری احادیث میں ہے۔چنانچہ ابن ماجہ میں ہے کہ قیامت میں قرض خواہ کو مقروض سے قصاص دلوایا جاوے گا سوائے تین مقروضوں کے:ایک وہ جو جہاد وغیرہ دینی ضروریات کے لیے قرض لے۔دوسرے وہ جس کے ہاں بے کفن



Total Pages: 445

Go To