$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی تکلیف پر خوش ہونا اور ان کی خوشی پر ناراض ہونا لعنتی آدمیوں کا کام ہے  خوشی و غم میں مسلمانوں کے ساتھ رہنا چاہیے،غلہ کے ناجائز بیوپاریوں کا عام حال یہ ہی ہے کہ ارزانی سن کر ان کا دل بیٹھ جاتاہے،گرانی کے لیے ناجائز عمل کرتے ہیں،اُلٹے وظیفے پڑھتے ہیں،لوگوں سے قحط کی دعائیں کراتے ہیں نعوذ باﷲ!،وقت پر بارش ہو تو ان کے گھر صفِ ماتم بچھ جاتی ہے۔

2898 -[7]

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ احْتَكَرَ طَعَامًا أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثمَّ تَصَدَّقَ بِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ كَفَّارَةً» . رَوَاهُ رزين

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو چالیس دن غلہ روکے ۱؎ پھر وہ سارا غلہ خیرات بھی کردے تب بھی اس کا کفارہ نہ ہوگا ۲؎ (رزین)

۱؎  چالیس دن فرمانے کی حکمتیں ابھی عرض کی جاچکیں،ہوسکتا ہے کہ چالیس دن سے کم احتکار کرنے والے کا یہ حکم نہ ہو کہ ابھی یہ گناہ اس کی طبیعت میں پختہ نہ ہوا۔

۲؎ یعنی اگرچہ اس صدقہ کا ثواب پائے گا مگر یہ ثواب اس گناہ کا کفارہ نہ ہوسکے گا جو غلہ روکنے سے ہوا،یہ حدیث ابن عساکر نے حضرت معاذ سے کچھ لفظی فرق کے ساتھ روایت فرمائی۔


 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html