Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب الاحتکار

غلہ روکنے کا بیان   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  احتکار حکرٌ سے بنا بمعنی ظلم و بد صحبتی،شریعت میں انسان یا جانور کی غذاؤں کا ذخیرہ کرلینا احتکار کہلاتا ہے۔تنگی کے زمانہ میں احتکار نا جائز ہے،فراخی میں جائز یعنی اگر انسان یا جانور بھوکے مررہے ہیں،بازار میں یہ چیزیں ملتی نہیں مگر یہ ظالم اور زیادہ مہنگائی کے انتظار میں اشیاء ضرورت کا ذخیرہ کیے بیٹھا ہے یہ جرم ہے،ممانعت کی تمام حدیثوں میں احتکار سے یہی مراد ہے۔مطلقًا ذخیرہ کرنا حرام نہیں ورنہ مسلمان غلہ بھوسہ وغیرہ کی تجارت نہ کرسکیں گے۔(اشعہ ومرقات)

2892 -[1]

عَن معمر قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ احْتَكَرَ فَهُوَ خَاطِئٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ» فِي بَابِ الْفَيْءِ إِنْ شَاءَ الله تَعَالَى

روایت ہے حضرت معمر سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو غلہ روکے وہ خطا کار ہے ۲؎(مسلم)اور ہم حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث کہ بنی نضیر کے مال کا الخ ان شاءاﷲ تعالٰی باب الفی میں ذکر کریں گے۔

۱؎ آپ معمر ابن عبداﷲ صحابی ہیں،قرشی عدوی ہیں،قدیم الاسلام ہیں،پہلے حبشہ کی جانب ہجرت کی،پھر وہاں سے مدینہ طیبہ کی طرف، وہیں عمر گزاری،ان کے علاوہ بہت سے تابعین تبع تابعین کا نام معمر ہے جن میں معمر ابن راشد بہت مشہور ہیں۔ظاہر یہ ہے کہ یہاں معمر صحابی مراد ہیں اور حدیث متصل ہے اور ہوسکتا ہے کہ معمر تابعی مراد ہوں اور حدیث مرسل ہو۔(اشعہ)

۲؎ یعنی گنہگار۔امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ مطلقًا مال کا ذخیرہ کرنا ناجائز ہے،مال غذا کی قسم کا ہو یا اور۔باقی جمہور ائمہ کے ہاں صرف غذاؤں کا روکنا منع ہے وہ بھی صرف تنگی کے زمانہ میں،اگر اس کے روکنے سے بازار پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور چیز عمومًا مل ہی رہی ہے تو بلاکراہت جائز ہے۔(مرقات)

الفصل الثانی

دوسری فصل

2893 -[2]

عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْجَالِبُ مَرْزُوقٌ والمحتكر مَلْعُون» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه والدارمي

روایت ہے حضرت عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں غلہ لانے والا روزی دیا جائے گا روکنے والا لعنتی ہے ۱؎ (ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ یعنی جو تاجر باہر سے شہر میں غلہ لائے جس کی وجہ سے یہاں کا قحط دور ہوجائے،اﷲ اسے روزی دے اور جو غلہ کو ذخیرہ کرکے قحط پیدا کردے اس پر خدا کی پھٹکار ہو اور ہوسکتا ہے کہ یہ خبر ہو یعنی غلہ لانے والے کو برکتیں ملیں گی اور ذخیرہ والا لعنتی ہی مرے گا۔

2894 -[3]

وَعَن أنس قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ سَعِّرْ لَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أحد مِنْكُم يطلبنني بمظلة بِدَمٍ وَلَا مَالٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں بھاؤ چڑھتے گئے تو صحابہ نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم بھاؤ مقرر فرمادیجئے ۱؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا بھاؤ مقرر فرمانے والا اﷲ ہے وہ ہی تنگی و فراخی فرمانے والا روزی رساں ہے ۲؎ میری آرزو ہے کہ اپنے رب سے اس طرح ملو۳؎ کہ تم میں سے کوئی مجھ سے خونی یا مالی ظلم کا مطالبہ نہ کرسکے ۴؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)

 



Total Pages: 445

Go To