Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب

باب   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  اس باب میں ممنوع تجارتوں کے متعلق مختلف احادیث مذکور ہوں گی اس لیے اس کا ترجمہ مقرر نہ فرمایا یعنی متفرق احادیث کا باب جس میں مختلف ممنوع تجارتوں کا ذکر ہے۔

2875 -[1]

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَمَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ» . رَوَاهُ مُسلم وروى البُخَارِيّ الْمَعْنى الأول وَحده

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو شخص پیوند لگانے کے بعد درخت کھجور خریدے ۱؎  تو اس کے پھل بیچنے والے کے ہوں گے ہاں مگر خریدار شرط لگائے ۲؎  اور جو کوئی ایسا غلام خریدے جس کے پاس مال ہو۳؎  تو اس کا مال بیچنے والے کا ہوگا ہاں مگر یہ کہ خریدار شرط لگائے ۴؎ (مسلم)بخاری نے صرف پہلی صورت بیان کی۔

۱؎ کھجور کی تابیر کے معنے ہم باب الاعتصام میں عرض کرچکے ہیں کہ نر کھجور کی شاخ مادہ کھجور میں لگانا تاکہ پھل اچھے اور زیادہ آئیں،یہاں مراد ہے تابیر کے بعد پھل لگ جانا جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے،اگر تابیر ہوچکی ہے مگر ابھی پھل نہیں لگے تو یہ حکم بھی نہیں۔غرضکہ یہاں پھل والا درخت مراد ہےجس کے پھل پختہ یا گدر ہوچکے ہوں۔

۲؎  امام مالک و شافعی رحمھمااﷲ کے ہاں تابیر والے پھل دار درخت کے پھل خریدار کے ہوں گے اور اگر تاجر شرط کرلے تو اس کے ہوں گے،ہمارے ہاں بہرحال پھل بائع کے ہیں،ہمارے ہاں تابیر سے مراد پھل دار ہوجانا ہے اگر درخت پھلدار نہیں تو خواہ تابیر ہوچکی ہو،حکم بھی یہ نہیں،ابن ابی لیلی کے ہاں پھل بہرحال خریدار کے ہیں کہ درخت کے تابع ہیں۔

۳؎ یعنی غلام ماذون تھا جسے تجارت کی اجازت مولٰی نے دے رکھی تھی اس وجہ سے اس کے پاس مال جمع ہوگیا تھا۔اب اسے فروخت کیا گیا تو مال چونکہ مولٰی کا تھا اسی کا رہے گا،یہاں مال کی نسبت غلام کی طرف قبضہ کی نسبت ہے نہ کہ ملکیت کی،وہ مال تھا مولٰی کا مگر قبضہ میں غلام کے تھا۔

۴؎ یعنی اگر خریدار کہے کہ میں وہ غلام مع اس کے مال کے خریدتا ہوں تب تو مال خریدار کا ورنہ بائع کا،امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں فروخت شدہ غلام کے جسم کے کپڑے بھی بائع کے ہوں گے حتی کہ خریدنے کے بعد خریدار اسے اپنا تہبندپہنائے بائع کا تہبند اتار دے۔ (مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ جانور خریدا تو اس کی جھول،زنجیر اور دوسرا جسم کا سامان بائع کا ہوگا اگر خریدار شرط لگائے تو اس کا ہوگا۔ خیال رہے کہ اگر غلام کے پاس چاندی کے روپے تھے تو اس کے مع روپوں کے خریدنے کے وہ ہی احکام ہوں گے جو بیع صرف کے ہوتے ہیں یعنی اگر خریدار چاندی سے خریدے تو اس کے روپوں سے زائد روپے دے تاکہ اصل روپیہ روپے کے عوض ہوجائے اور زیادتی غلام کے عوض کہ یہ بیع صرف غلام کی نہیں بلکہ چاندی اور غلام کی ہے۔

2876 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قد أعيي فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ فَضَرَبَهُ فَسَارَ سَيْرًا لَيْسَ يَسِيرُ مِثْلَهُ ثُمَّ قَالَ: «بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ» قَالَ: فَبِعْتُهُ فَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ وَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ وَفِي رِوَايَةٍ فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ وَرَدَّهُ عَلَيَّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِبِلَالٍ: «اقْضِهِ وَزِدْهُ» فَأَعْطَاهُ وَزَادَهُ قِيرَاطًا

روایت ہے حضرت جابر سے کہ آپ ایک اونٹ پر سفرکررہے تھے جو تھک گیا تھا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم گزرے تو اسے مارا تو وہ اونٹ ایسی رفتار سے چلنے لگا کہ ایسا کبھی نہ چلتا تھا ۱؎  پھر حضور نے فرمایا اسے میرے ہاتھ ایک اوقیہ میں بیچ دو ۲؎  میں نے بیچ دیا مگر اپنے گھر تک اس کی سواری کی شرط لگائی ۳؎ پھر جب میں مدینہ آیا تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹ لایا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت کھری کردی اور ایک روایت میں ہے کہ اس کی قیمت عطا فرمائی اور اونٹ بھی واپس دے دیا ۴؎ (مسلم،بخاری)اور بخاری کی ایک روایت ہے کہ آپ نے حضرت بلال سے فرمایا کہ انہیں قیمت ادا کردو کچھ زیادہ بھی دے دو تو انہوں نے ایک قیراط زیادہ دیا ۵؎

 



Total Pages: 445

Go To