Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2803 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ فَقَالَ: " إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ: لَا خلابة " فَكَانَ الرجل يَقُوله

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں خریدو فروخت میں دھوکا کھا جاتا ہوں فرمایا جب خرید و فروخت کرو تو کہہ دیا کرو  دھوکا نہ ہو ۱؎ چنانچہ وہ صاحب یہ کہہ دیا کرتے تھے ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یہ دھوکا کھا جانے والے حضرت حبان ابن منقد ابن عمرو مازنی ہیں،غالبًا یہود و منافقین انہیں دھوکا دے کر چیز فروخت کردیتے ہوں گے،صحابہ کرام سے دھوکا دینا ممکن نہیں،خلابہ خ کے کسرہ سے بمعنی غبن و دھوکا ہے۔

۲؎  اس جملہ کے بہت سے معانی کئے گئے ہیں اور ہر معنی کی بنا پر فقہاء کے مذاہب ہیں،ہمارے ہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ تم کہہ دیا کرو کہ بھائی میں تجارتی کاروبار میں سادہ بندہ ہوں مجھ سے قیمت زیادہ نہ وصول کرلینا میں اپنے لیے اختیار رکھتا ہوں کسی کو دکھاؤ گا اگر قیمت زیادہ لگائی گئی تو مجھے خیار شرط ہے واپس کردوں گا۔چنانچہ بعض روایات میں یوں ہے"لا خلاتہ ولی الخیار ثلثۃ ایام" یعنی دھوکا  نہ ہو اور مجھے تین دن تک اختیار ہے اس صورت میں حدیث بالکل واضح ہے۔خیال رہے کہ اگر خریدار غلطی سے چیز مہنگی خرید لے تو اسے واپس کرنے کا حق نہیں اور  نہ اس سے بیع فاسد ہوگی ہاں اگر ردّی مال خریدلے تو اسے خیار عیب ملے گا۔بعض آئمہ کے ہاں زیادہ قیمت لگالینے پر بیع فاسد ہوجاتی ہے،بعض کے ہاں خریدار کو واپسی کا حق ہوتا ہے وہ اس جملہ کے اور معنی کرتے ہیں مگر مذہب حنفی نہایت قوی ہے اور یہ ہی معنی جو فقیر نے عرض کئے قوی ہیں۔

الفصل الثانی 

دوسری فصل

2804 -[4]

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تاجر و خریدار مختار ہیں جب تک کہ الگ نہ ہوں ۲؎  مگر یہ کہ عقد ہی اختیار کا ہو ۳؎ اور اسے یہ درست نہیں کہ فسخ تجارت کے ڈر سے اپنے ساتھی سے الگ ہوجائے ۴؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

۱؎  پہلے کہا جاچکا ہے کہ عمرو کے دادا کا نام عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص ہے،آپ عمرو ابن شعیب ابن محمد ابن عبداﷲ ابن عمرو  ابن عاص ہیں،ان کی روایات مدخول ہوتی ہیں کہ اگر جدہٖ میں ضمیر عمرو کی طرف ہو تو ان کے دادا محمد ابن عمرو ہیں تابعی ہیں اور حدیث مرسل ہے اور اگر جدہٖ کی ضمیر ابیہ کی طرف لوٹے تو یہ ابیہ کے خلاف ہے،انتشار ضمائر ہے اور عمرو نے اپنے  پر دادا کو پایا بھی نہیں ہے لہذا حدیث منقطع ہے اسی لیے مسلم،بخاری میں اسی اسناد سے ان کی روایات نہیں آتیں۔(اشعہ)

۲؎  اس جملہ کے معنے بھی عرض کردیئے گئے کہ ہماری علیحدگی سے مراد قوال کی علیحدگی ہے یعنی ایک کا کہنا کہ میں نے فروخت کردی دوسرے کا کہنا میں نے قبول کرلی اور شوافع کے ہاں تفرق ابدان مراد ہے یعنی تاجر و خریدار کا تجارت کی جگہ سے الگ ہٹ جانا،اس حدیث سے وہ خیار مجلس ثابت کرتے ہیں دلائل پہلے عرض ہوچکے۔

۳؎ کہ خیار والے عقد میں اس علیحدگی کے بعد بھی صاحب اختیار کے اختیار ہوگا،یہاں خیار سے مراد خیار شرط ہے جس کی مدت تین دن ہے کہ اس سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔

۴؎ یعنی متقی پرہیزگار مسلمان کو یہ مناسب نہیں کہ خریدتے ہی یا بیچتے ہی وہاں سے چلا جائے اس خوف سے کہ سامنے والا عیب پر مطلع ہو کر بیع فسخ نہ کر دے۔خلاصہ یہ ہے کہ خرید و فروخت کرنے کے بعد دونوں کچھ وہاں ٹھہریں تاکہ خریدار اچھی طرح دیکھ بھال لے اور تاجر پیسہ گن لے پرکھ لے جیسے ریلوے کے ٹکٹ گھروں پر لکھا ہوتا ہے کہ پیسہ گن کر حساب لگا کر کھڑکی چھوڑو،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ خیار مجلس معتبر نہیں اگرجگہ



Total Pages: 445

Go To