Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب الخیار

اختیار کا باب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ اختیار خیر سے بنا بمعنی خیرو بھلائی کی طلب و تلاش،چننے اور پسند کرنے کو بھی خیار کہا جاتا ہے،برگزیدن کے معنے میں۔بیع میں ہمارے ہاں چار خیار ہیں:خیار عقد،خیار رؤیت،خیار شرط،خیار عیب،مگر امام شافعی کے ہاں پانچواں خیار اور بھی ہے خیار مجلس کہ ایجاب قبول کے بعد بھی جب تک فریقین جگہ سے ہٹ نہ جائیں انہیں خیار رہتا ہے کہ بیع کو رکھیں یا ختم کردیں،جب ان میں سے کوئی جگہ سے ہٹ گیا یہ خیار ختم ہوگیا مگر ہمارے ہاں ایجاب قبول سے بیع مکمل ہوجاتی ہے کہ اب ان میں سے کسی کو فسخ کا حق نہیں رہتا،اس کی تفصیل کتب فقہ میں ہے۔خیار شرط کی مدت تین دن ہے، خیار عقد میں مجلس کا اعتبار ہے کہ ایجاب کے بعد جب تک دونوں اپنی جگہ بیٹھے رہیں دوسرے کو قبول کرنے نہ کرنے کا حق ہے،جب ان میں سے کوئی ہٹ گیا قبول کا خیار جاتا رہا۔خیار عیب میں شرط یہ ہے کہ عیب بائع کے ہاں کا ہو خریدار کے ہاں پیدا نہ ہوا ہو اور اگر ایک عیب تو بائع کے ہاں تھا دوسرا خریدار کے ہاں پیدا ہوگیا تو اب واپسی کا حق خریدار کو نہ ملے گا بلکہ چیز کی قیمت کم ہوجائے گی،تفصیل فقہ میں ہے۔

2801 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَّفَرَقَا إِلَّا بيع الْخِيَار»وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ فَإِذَا كانَ بيعُهما عَن خيارٍ فقد وَجَبَ»وَفَى رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ: «الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَخْتَارَا» . وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ: " أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اخْتَرْ «بَدَلَ» أَوْ يختارا "

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے خرید و فروخت کرنے والے دونوں میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی پر اختیار ہے ۱؎  جب تک وہ الگ نہ ہوں ۲؎ سواء خیار والی بیع کے ۳؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ جب تاجر و خریدار تجارتی کاروبار کریں تو اس بیع میں ہر ایک مختار ہے جب تک جدا نہ ہوں ۴؎ یا ان کی بیع ہی اختیار کی ہوجب بیع اختیار کی ہے تو اختیار لازم ہو گیا ۵؎  اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ خریدار اور بائع مختار ہیں ۶؎ جب تک الگ نہ ہوں یا اختیار رکھیں اور مسلم،بخاری کی روایت میں بجائے اختیار کے یوں ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ دے تو اختیار رکھ ۷؎

۱؎ یعنی خرید و فروخت کرنے والوں میں سے ایک نے ایجاب کردیا تو دوسرے کو قبول کرنے نہ کرنے کا اختیار ہے اور دوسرے کے قبول سے پہلے ایجاب کرنے والا اپنا ایجاب ختم کرسکتا ہے۔

۲؎ ہمارے امام اعظم کے ہاں یہاں علیحدگی سے مراد جسمانی علیحدگی نہیں بلکہ کلام کی علیحدگی وجدائی مراد ہے کہ ایک کہے میں نے بیچ دی دوسرا کہے میں نے قبول کرلی جسمًا خواہ وہاں ہی بیٹھے رہیں یا علیحدہ ہوجائیں جب باتوں کا ہیر پھیر ہوگیا بیع پوری ہوگئی،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ اِنۡ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللہُ کُلًّا مِّنۡ سَعَتِہٖ"اگر خاوند بیوی الگ ہوجائیں تو اﷲ اپنے فضل سے ہر ایک کو دوسرے سے بے نیاز کردے گا،یہاں زوجین کی جسمانی علیحدگی مراد نہیں بلکہ نکاح سے علیحدگی یعنی طلاق مراد ہے،نیز جب نکاح،کرایہ صرف ایجاب و قبول سے ہی منعقد ہوجاتے ہیں وہاں خیار مجلس نہیں ہوتا تو بیع بھی ایک عقد ہی ہے وہ بھی صرف ایجاب و قبول سے ہوجانی چاہیے۔امام شافعی اس تفرقہ سے مراد تفرقہ ابدان لیتے ہیں اور



Total Pages: 445

Go To