Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

کتاب البیوع

تجارتوں کا باب  ۱؎

باب الکسب و طلب الحلال

باب کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا  ۲؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎   بیوع بیعٌ کی جمع ہے،بیع بوعٌ یا باعٌ سے بنا بمعنی ہاتھ لمبے کرنا،چونکہ تجارت میں خریدار اور بیوپاری ہاتھ بڑھا کر ایک دوسرے کا مال لیتے ہیں اس لیے اسے بیع کہا جاتاہے۔شریعت میں مال کا مال سے تبادلہ کرنا بیع کہلاتا ہے۔کبھی پورے عقد کو بیع کہتے ہیں،کبھی فقط بیچنے کو،کبھی اس کے نتیجہ یعنی ملکیت کو بیع کہا جاتا ہے یہاں پورے عقد کے معنے میں ہے کیونکہ بیع کی بہت اقسام ہیں:بیع مطلق،بیع صرف،بیع مقایضہ،بیع سلم،تولیہ،مرابحہ،وضیعہ وغیرہ اس لیے بیوع جمع فرمایا۔خیال رہے کہ شرعی احکام چند قسم کے ہیں:خالص حقوق اﷲ،خالص حقوق العباد،عقوبات،کفارات وغیرہ مصنف نے خالص حقوق اﷲ یعنی عبادات کا ذکر پہلے کیا،اب خالص حق العبد یعنی تجارتوں کا ذکر کیا،چونکہ تجارت کے فضائل براہ راست حدیث میں وارد نہیں ہوئے تھے اس لیے باب الکسب منعقدکر کے اس کے فضائل بیان کردیئے۔

۲؎ کسب کے معنے ڈھوڈنا اور تلاش میں دوڑنا ہے یہاں مراد مال کمانا ہے،حلال سے مراد حرام کا مقابل ہے۔

2759 -[1]

عَن الْمِقْدَاد بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عمل يَدَيْهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت مقداد ابن معد یکرب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کسی شخص نے کبھی کوئی کھانا اس سے اچھا نہ کھایا کہ انسان ہاتھوں کی کمائی سے کھائے ۱؎  اﷲ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھوں کے عمل سے کھاتے تھے ۲؎(بخاری)

۱؎ ہاتھوں سے مراد پوری ذات ہے،ہاتھ سے کمائے یا پاؤں سے یا آنکھ یا زبان سے غرضیکہ اپنی قوت سے حلال روزی کمائے،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَبِمَا کَسَبَتْ اَیۡدِیۡکُمْ"وہاں بھی ایدی یعنی ہاتھوں سے ذات ہی مراد ہے۔مقصد یہ ہے کہ دوسروں کی کمائی پر اپنا گزارا نہ کرے خود محنت کرے۔

۲؎ یعنی باوجود یہ کہ آپ بادشاہ تھے مگر آپ نے کبھی خزانہ سے اپنے پر خرچ نہ کیا بلکہ روزانہ  ایک زرہ بناتے تھے جسے چھ ہزار درہم میں فروخت کرتے تھے دو ہزار اپنے بال بچوں پر خرچ فرماتے تھے اور چار ہزار فقراء بنی اسرائیل پر خیرات کرتے تھے۔(مرقات)علماء فرماتے ہیں کہ بقدر ضرورت کمائی فرض ہے اور زیادہ مباح اور فخرو زیادتی مال کے لیے کمائی مکروہ ہے۔

2760 -[2]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا وَأَنَّ اللَّهَ أَمَرَ المؤْمنينَ بِمَا أمرَ بِهِ المرسَلينَ فَقَالَ: (يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ واعْمَلوا صَالحا)وَقَالَ: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ)ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ: يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی طیب ہے اور طیب ہی کو قبول فرماتا ہے ۱؎  اوراﷲ تعالٰی نے مسلمانوں کو اس چیز کا حکم دیا جس کا انبیائے کرام کو حکم دیا ۲؎ فرمایا اے نبیو! طیب اور لذیذ چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو۳؎  اور رب تعالٰی نے فرمایا اے ایمان والو ہماری دی ہوئی طیب و لذیذ روزی کھاؤ۴؎ پھر ذکر فرمایا کہ آدمی پرا گندہ گرد آلود بال لمبے لمبے سفرکرتا ہے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر کہتا ہے اے رب اے رب اور اس کا کھانا حرام اور پینا حرام لباس حرام اور حرام کی ہی غذا پاتا ہے ۵؎  تو ان وجوہ سے دعا کیسے قبول ہو ۶؎(مسلم)

 



Total Pages: 445

Go To