$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

جو شرعًا واجب القتل ہو اور حرم شریف میں پناہ لے لے جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا،ورنہ حرم شریف میں جانور ذبح ہوتے ہیں، وہاں کے مجرم کو قتل کیا جاسکتا ہے محفوظ الدم شخص کا خون بہانا غیر حرم میں بھی حرام ہے لہذا حدیث واضح ہے۔

۶؎ یعنی فتح مکہ کے دن ہمارا مکہ معظمہ پر حملہ کرنا اور حملہ کے دوران میں حضرت خالد بن ولید کی تلوار سے ستر۷۰ انسانوں کا حرم شریف میں خون ہوجانا یہ ہماری خصوصیات سے ہے اور خصوصیات میں پیروی نہیں ہوتی،نہ وہ افعال و اعمال سنت کہلاتے ہیں ہمارے واسطے وہ قتال وقتی طور پر حلال تھا تمہارے لیے دائمی حرام۔

۷؎ کل سے مراد سارا گذشتہ زمانہ ہے یعنی جیسے حرم محترم کی حرمت کل تھی ایسے ہی آج ہے اور تاقیامت رہے گی۔

۸؎ اس کا مقصد یہ تھا کہ عبدالملک خلیفہ برحق ہے اور حضرت عبداﷲ ابن زبیر اس کے باغی ہیں،مکہ معظمہ میں باغیوں کی سرکوبی کرنا جائز ہے میں اس فعل پر مجرم نہیں۔

۹؎ یعنی جو حرم کے باہر خون کرے اور حرم میں پناہ لے لے اسے امن نہیں بلکہ اس پر روزی تنگ کی جائے تاکہ وہ نکلے اور باہر ہونے پر قتل کردیا جائے اور اگر اس مردود کا مقصد یہ ہے کہ باہر حرم کا مجرم حرم میں قتل کیا جائے گا تو غلط ہے،وہ عمرو ابن سعید ظالم وفاسق بھی تھا اور نرا جاہل بھی لہذا یہ جملہ شوافع کی دلیل نہیں،جہلاء کے اقوال سے دلیل کیسی۔(مرقات)

۱۰؎ خربہ خ کے پیش ر کے جزم سے،اس کے لغوی معنے ہیں اونٹ کی چوری،اب اصطلاح میں مطلقًا فساد کو کہتے ہیں اس کی مراد فساد سے جانی مالی ملکی فساد ہے۔

2727 -[13]

وَعَن عيَّاشِ بنِ أبي ربيعةَ المَخْزُومِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ هَذِهِ الْأُمَّةُ بِخَيْرٍ مَا عَظَّمُوا هَذِهِ الْحُرْمَةَ حَقَّ تَعْظِيمِهَا فَإِذَا ضَيَّعُوا ذلكَ هلَكُوا» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت عیاش ابن ابو ربیعہ مخزومی سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ امت بھلائی پر رہے گی جب تک اس حرمت کا بحق تعظیم احترام کریں جب اسے برباد کریں گے ہلاک ہوجائیں گے ۲؎(ابن ماجہ)

۱؎  آپ ابوجہل کے اخیافی بھائی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اعلان نبوت کرتے ہی ایمان لائے،حضرت عمر کے ساتھ حبشہ ہجرت کر گئے،پھر حضرت عمر کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کرکے آئے،ابوجہل اور حارث ابن ہشام نے دھوکہ سے انہیں مکہ معظمہ بلایا کہ تیری ماں تیرے لیے بے قرار ہے اور وہاں آپ کو قید کردیا،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے قنوت نازلہ میں آپ کی رہائی کی دعا کی کہ الٰہی عیاش ابن ربیعہ کو نجات دے،آپ عہد فاروقی میں جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔(اکمال)

۲؎  تجربہ سے بھی ثابت ہے کہ جس بادشاہ نے کعبہ معظمہ یا حرم شریف کی بے حرمتی کی ہلاک و برباد ہوگیا، یزید پلید کے زمانہ میں جب حرم شریف کی بے حرمتی ہوئی یزید ہلاک ہو،اس کی سلطنت ختم ہوگئی۔


 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html