$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۹؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ خلا ترگھاس کو کہتے ہیں اور حشیش خشک کو اور بعض کے ہاں اس کے برعکس ہے۔مقصد یہ ہے کہ حرم شریف کی نہ تر گھاس کاٹی جائے نہ خشک کیونکہ خشک گھاس کانٹے کے حکم میں ہے۔

۱۰؎  اذخر ایک لمبی گھاس ہوتی ہے جو عرب میں بجائے لکڑی اور کوئلے کے بھٹیوں میں بھی استعمال کی جاتی ہے اور گھر و قبر کی چھتوں میں بھی جیسے ہمارے ہاں گاؤں میں سینٹے و سرکرے۔

۱۱؎  اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو رب تعالٰی نے احکام شرعیہ کا مالک بنایا ہے کہ اپنے اختیار سے آپ باذن پروردگار حرام و حلال کرسکتے ہیں،دیکھو سرکار عالی نے حضرت عباس کے جواب میں یہ نہ فرمایا کہ اچھا رب کی بارگاہ میں دعا کریں گے یا جبریل امین سے پوچھیں گے بلکہ خود ہی فرمادیا الّا الاذخر،اگر حضرت عباس حضور سے یہ نہ کہلوالیتے تو اذخر بھی حرام ہی رہتی۔(اشعہ)

۱۲؎  اکثر شوافع کے ہاں حرمین شریفین کی مٹی یا پتھر باہر لے جانا بھی منع ہے اور باہر کی مٹی وہاں پہنچانا خلاف اولیٰ،ہاں آبِ زمزم تبرک کے لیے اور مدینہ پاک کی کھجوریں باہر لے جانا سنت ہے۔چنانچہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے سہیل ابن عمرو سے حدیبیہ کے سال آب زمزم دو مشکیزے مدینہ طیبہ منگوایا اور حج کے موقعہ پر خود سرکار آب زمزم مشکیزوں و برتنوں میں لے گئے اور عرصہ تک وہ پانی بیماروں کو دواءً پلاتے رہے اور حضرت عائشہ صدیقہ سے بروایت صحیح ثابت ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے کئی بار آبِ زمزم باہر بھیجا۔(مرقات)مدینہ پاک سے خاک شفا لانا اور اسے دواءً استعمال کرنا سنت مسلمین ہے،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے کہ حضور نے فرمایا "تربۃ ارضنا یشفی سقیمنا" ہماری زمین مدینہ کی مٹی بیماروں کو شفا دیتی ہے بلکہ وہاں کا گرد و غبار اپنے منہ اور سینہ پر لے، یہ برص و جذام کے لیے بہت مفید ہے،مسجد نبوی خصوصًا روضہ مطہرہ کا غبار مؤمنوں کی آنکھوں کا سرمہ ہے اور عشاق کے زخمی دلوں کا مرہم۔

2717 -[3]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَحْمِلَ بمكةَ السِّلَاح» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تم میں سےکسی کو یہ حلال نہیں کہ مکہ معظمہ میں ہتھیار اٹھائے پھرے ۱؎(مسلم)

۱؎  مکہ معظمہ میں کھلے ہتھیار اٹھائے پھرنا تاکہ مسلمان مرعوب ہوں حرام ہے،غلاف میں ڈھکے ہتھیار اٹھانا اپنی حفاظت وغیرہ کے لیے درست ہے۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم عمرہ قضا میں ہتھیار لے کر وہاں داخل ہوئے مگر غلاف میں یہ عمل اس حدیث کی تفسیر ہے۔

2718 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ وَقَالَ: إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ. فَقَالَ: «اقتله»

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فتح کے دن مکہ معظمہ میں اس طرح تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سر پر خود تھا ۱؎ پھر جب خود اتارا تو ایک شخص آیا اور بولا کہ ابن خطل کعبہ شریف کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے فرمایا اسے قتل کردو ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎  یعنی آپ بغیر احرام مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ورنہ سر مبارک کھلا ہوتا،آج چونکہ زمین حرم حضور انور کے لیے حلال ہوگئی تھی کہ وہاں قتال حلال ہوگیا تھا اس لیے آج بغیر احرام داخلہ بھی حضور انور کا درست ہوگیا لہذا یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں کہ کسی نیت سے مکہ معظمہ جائے احرام و عمرہ ضروری ہے اور نہ یہ حدیث شوافع کی دلیل ہے کہ جو کسی اور کام کے لیے مکہ معظمہ جائے وہ بغیر احرام جاسکتاہے۔

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html