$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎ یعنی جو قربانی تم گزشتہ سال دے چکے ہو وہ تو قبول ہوگئی اب دوبارہ قضا عمرہ میں پھر قربانی دو،اگر گزشتہ قربانی حل میں واقع ہوئی تھی تب تو وہ درست ہی نہ ہوئی تھی اب دینا ضروری ہے اور اگر حرم کے حدود میں واقع ہوئی تھی تو اب دوبارہ دینے کا حکم استحبابی ہے۔(مرقات،واشعہ)

۲؎  اس جگہ مشکوۃ شریف میں جگہ چھوٹی ہوئی ہے مگر یہ روایت ابوداؤد میں ہے،چونکہ اس کی اسناد میں محمد ابن اسحاق ہے اس لیے حدیث اس اسناد میں ضعیف ہے۔واﷲ اعلم!

2713 -[7]

وَعَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من كُسِرَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ من قَابل» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دواد وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: «أَوْ مَرِضَ» .وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن. وَفِي المصابيح: ضَعِيف

روایت ہے حضرت حجاج ابن عمرو انصاری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جس کا پاؤں ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہو جائے تو وہ احرام کھول دے اور اس پر سال آئندہ حج ہے ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی) اور ابوداؤد نے یہ زیادہ کیا کہ دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ یا وہ بیمار ہوجائے ۲؎ ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے اور مصابیح میں ہے کہ ضعیف ہے۳؎

۱؎ یعنی جس نے احرام حج باندھ لیا ہو پھر اس کے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ جائے یا ہڈی تو نہ ٹوٹے لنگ پیدا ہوجائے جس سے وہ آگے سفر اور ارکان حج ادا نہ کرسکے تو وہ اپنا احرام کھول دے اور وہاں سے لوٹ جائے یا ٹھہر جائے،ہدی مکہ معظمہ بھیج دے اور تاریخ ذبح پر احرام کھول دے،سال آئندہ قضاءکرے۔اس سے دو مسئلے ثابت ہوئے:ایک یہ کہ احصار صرف دشمن ہی سے نہیں ہوتا بلکہ بیماری وغیرہ سے بھی ہوجاتا ہے۔دوسرے یہ کہ نفلی عبادت شروع کردینے سے فرض ہوجاتی ہے کہ اگر پوری نہ ہو سکے تو اس کی قضا لازم ہے کیونکہ یہاں حج مطلق فرماگیا ہے فرضی ہو یا نفلی  لہذا یہ حدیث  احناف کی قوی دلیل ہے     ،بعض نے فرمایا کہ اگر شرط سے احرام باندھا ہے تب مرض سے احصا ر ہوسکے گا ورنہ نہیں مگر یہ بھی صحیح نہیں ،اس حدیث پاک میں شرط کا ذکر نہیں نص میں مطلق  کا اطلاق باقی رکھنا چاہیے۔

۲؎  بیماری سے وہ بیماری مراد ہے جو سفر یا ادائے حج سے روک دے مطلقًا بیماری نہیں جیساکہ ظاہر ہے۔

۳؎ یعنی یہ حدیث چند اسنادوں سے مروی ہے: ترمذی والی اسناد میں تو حسن ہے اور امام بغوی یعنی صاحب مصابیح کی اسناد میں ضعیف مگر اس اسناد کا ضعف دوسری اسناد کے حسن کو مضر نہیں ہوسکتا۔فتح القدیر میں ہے کہ یہ حدیث حضرت ابن عباس و ابوہریرہ پر پیش کی گئی تو ان دونوں نے فرمایا کہ حجاج سچے ہیں،طحطاوی میں ہے کہ حضرت علقمہ فرماتے ہیں ہمارے اس ساتھی کو سانپ نے کاٹ لیا وہ عمرہ کا محرم تھا ہم نے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ہدی بھیج دے اور صحت ہو جانے کے بعد عمرہ ادا کرے فی الحال کھل جائے۔(مرقات وغیرہ)

2714 -[8]

وَعَن عبدِ الرَّحمنِ بنِ يَعمُرَ الدَّيْلي قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحَجُّ عَرَفَةُ مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ أيَّامُ مِنىً ثلاثةَ أيَّامٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن یعمر دیلمی سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ حج عرفہ ہے جو مزدلفہ کی شب فجر طلوع ہونے سے پہلے عرفہ کا قیام پالے اس نے حج پالیا ۲؎ منٰی کے دن تین ہیں۳؎ تو جو دو دن میں جلدی کرے تو اس پر گناہ نہیں اور جو دیر سے لوٹے تو اس پر گناہ نہیں۴؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے۔

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html