Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2705 -[10]

وَعَن خُزَيمةَ بنَ جَزَيّ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الضَّبُعِ. قَالَ: " أَوَ يَأْكُلُ الضَّبُعَ أَحَدٌ؟ . وَسَأَلْتُهُ عَنْ أَكْلِ الذِّئْبِ. قَالَ: «أوَ يَأَكلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ؟» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: لَيْسَ إِسْنَاده بِالْقَوِيّ

روایت ہے حضرت خزیمہ ابن جزی سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے بِجّو کھانے کے متعلق پوچھا تو فرمایا کوئی بِجّو بھی کھاتا ہے ۲؎  اور آپ سے بھیڑیا کھانے کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ جس میں بھلائی ہو وہ بھیڑیا کھاسکتا ہے۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ اس کی اسناد قوی نہیں۴؎

۱؎ خُزیمہ خ کے پیش ز کے زبر (فتح)سے ہے اور جزیمہ جیم کے زبر ز کے  زیر(کسرہ)سے،آپ صحابی ہیں۔

۲؎ یعنی کیا کوئی مسلمان بِجّو کھائے گا حالانکہ یہ کیل والا جانور ہے اور کیل والے جانور حرام ہیں،یہ حدیث امام ابوحنیفہ و امام مالک رضی اللہ عنہما کی دلیل ہے کہ بِجّو کھانا منع ہے،خواجہ حسن بصری،سعید ابن مسیب اور سفیان ثوری کا بھی یہ ہی مذہب ہے کہ بِجّو حرام ہے، دیکھو مرقات شرح مشکوٰۃ۔

۳؎ بھلائی سے مراد ایمان ہے یعنی مؤمن بِجّو بھیڑیا وغیرہ جانور کبھی نہیں کھاسکتا،مؤمن کو اس سے طبعًا نفرت ہونی چاہیے۔

۴؎ یعنی یہ حدیث (۱)امام ترمذی کو غیر قوی ہوکر ملی مگر جب امام اعظم نے اس حدیث سے یہ مسئلہ استنباط کیا تو اس وقت بالکل صحیح درست و قوی تھی،جس راوی کی وجہ سے یہ حدیث صحیح نہ رہی وہ اس کی اسناد میں اس وقت شامل تھا ہی نہیں،امام ترمذی کے زمانہ کے ضعف پہلے والوں کو مضر کیوں ہوگا(۲)اس حدیث سے خواجہ حسن بصری،سفیان ثوری نے بھی استدلال فرمایا(۳)اور اس کی تقویت ابن ماجہ کی روایت سے بھی ہوتی ہے(۴)اور جب حلت و حرمت میں تعارض ہو تو حرمت کو ترجیح ہوتی ہے لہذا یہ ہی راحج ہے کہ بِجّو حرام ہے۔(مرقات)

لطیفہ: مذہب حنفی کی قوت کی دلیل یہ ہے کہ جو جانور حنفی حرام کہتے ہیں دوسرے امام حلال،انہیں کھاتا کوئی نہیں۔دیکھو گھوڑا،گوہ،بِجّو وغیرہ کو دوسرے آئمہ نے حلال تو کہا مگر اس کے گوشت آج تک نہ کہیں مارکیٹ میں فروخت ہوتے دیکھے،نہ کسی کو کھاتے دیکھا،صرف کتابوں میں ہی حلت مذکور ہے(۵)خیال رہے کہ ترمذی نے بھی اس حدیث کو ضعیف نہ کہا بلکہ لیس بقوی فرمایا،اس میں حدیث حسن بھی شامل ہے،نیز(۶)ترمذی نے اس حدیث پر جرح مجہول کی اور جرح مجہول احناف کے ہاں نہیں،ان چھ وجہوں سے یہ حدیث قابلِ عمل ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2706 -[11]

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ قَالَ: كنَّا مَعَ طَلحةَ بنِ عُبيدِ اللَّهِ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَافَقَ مَنْ أَكَلَهُ قَالَ: فَأَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابن عثمان تیمی سے ۱؎  فرماتے ہیں ہم طلحہ ابن عبید اﷲ کے ساتھ تھے اور ہم احرام باندھے تھے تو ان کے لیے پرندے لائے گئے اور حضرت طلحہ سو رہے تھے تو ہم میں سے بعض نے وہ کھالیئے اور بعض نے احتیاط برتی ۲؎ پھر جب طلحہ جاگے تو آپ نے کھانے والوں کی موافقت کی کہا کہ ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ پرندے کھائے ۳؎(مسلم)

۱؎ عبدالرحمن ابن عثمان ابن عبید اﷲ صحابی ہیں،حضرت طلحہ ابن عبید اﷲ کے بھتیجے ہیں،بیعت الرضوان کے بعد ایمان لائے،حضرت عبد اﷲ ابن زبیر کے ساتھ شہید کیے گئے۔(اشعہ)

۲؎ یعنی چڑیوں کا بھنا ہوا گوشت لایا تو گیا تھا حضرت طلحہ کے لیے مگر وہ سورہے تھے ان کے بعض ساتھیوں نے یہ سمجھ کر کہ چونکہ انہیں حلال نے شکار کیا ہے نہ کہ محرم نے لہذا ہمارے لیے ان کا کھانا درست ہے اور یہ بھی خیال کیا کہ حضرت طلحہ ہمارے کھالینے پر ناراض



Total Pages: 445

Go To