Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

شکار نہ پکڑنا درست ہے نہ پکڑا ہوا رکھنا یاذبح کرنا درست ہے اور اگر اس کا گوشت واپس فرمایا ہے تو اس کی وجہ شوافع کے ہاں تو یہ ہے کہ حضرت صعب نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے شکار کیا تھا،احناف کے ہاں اس لیے رد فرمایا کہ اس شکار میں کسی محرم نے کوئی مدد کی تھی اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو اس کا پتہ تھا،یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم جب ابواء پہنچے تو حضرت صعب نے حضور کی میزبانی اس طرح کی جس کا نتیجہ یہ ہوا۔

2697 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَخَلَّفَ مَعَ بَعْضِ أَصْحَابِهِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَوْا حِمَارًا وَحْشِيًّا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ فَلَمَّا رَأَوْهُ تَرَكُوهُ حَتَّى رَآهُ أَبُو قَتَادَةَ فَرَكِبَ فَرَسًا لَهُ فَسَأَلَهُمْ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا فَتَنَاوَلَهُ فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَعَقَرَهُ ثُمَّ أَكَلَ فَأَكَلُوا فَنَدِمُوا فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ. قَالَ: «هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟» قَالُوا: مَعَنَا رِجْلُهُ فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم فَأكلهَا وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا؟ أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا؟» قَالُوا: لَا قَالَ: «فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحمهَا»

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ روانہ ہوئے ۱؎ تو اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے تھے وہ ساتھی تو محرم تھے یہ محرم نہ تھے انہوں نے حضرت ابوقتادہ کی نظر پڑنے سے پہلے ایک گورخر دیکھا، دیکھا تو چھوڑ دیا۲؎ حتی کہ اسے ابو قتادہ نے دیکھ لیا تو آپ اپنے گھوڑے پر سوار ہوگئے ساتھیوں سے کہا کہ ان کا کوڑا اٹھا دیں انہوں نے انکار کیا۳؎ آپ نے خود اٹھا لیا شکار پر حملہ کیا اس کے پاؤں کاٹ دیئے پھر ابوقتادہ نے کھایا اور ساتھیوں نے بھی پھر اس پر نادم ہوئے۴؎ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے ملے تو آپ سے مسئلہ پوچھا حضور نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس کا کچھ ٹکڑا ہے بولے ہمارے ساتھ اس کا پاؤں ہے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ پاؤں لیا اورکھایا ۵؎ (مسلم،بخاری)ان دونوں کی دوسری روایت میں یوں ہے کہ جب وہ لوگ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے انہیں حملہ کرنے کو کہا تھا، اس طرف اشارہ کیا تھا بولے نہیں فرمایا تو بقیہ گوشت بھی کھالو ۶؎

۱؎ یہ واقعہ      ۶ھ؁  صلح حدیبیہ کا ہے،چونکہ تمام حضرات عمرہ کے لیے مکہ معظمہ جانے کا ارادہ رکھتے تھے اس لیے انہوں نے احرام باندھ لیا تھا اور حضرت ابوقتادہ مکہ معظمہ جانے کا ارادہ نہ رکھتے تھے کچھ دور ساتھ ساتھ گئے تھے اس لیے آپ نے احرام نہ باندھا لہذا حدیث پر یہ عتراض نہیں کہ ابوقتادہ بغیر احرام میقات سے آگے کیوں بڑھ گئے،اہل مدینہ کا میقات تو ذوالحلیفہ ہے۔

۲؎  ترکوہ میں ہٗ ضمیر یا تو ابوقتادہ کی طرف ہے یا شکار کی طرف یعنی محرم صحابہ نے حضرت ابوقتادہ کو شکار کی رہبری سے چھوڑ دیا، انہیں بتایا نہیں یا اس شکار کو چھوڑ دیا کہ نہ اس کی طرف اشارہ کیا نہ حملہ۔

۳؎ بعض روایات میں بجائے سَوْطَہٗ کے رُمُحَہٗ یعنی اپنا نیزہ بھالا مانگا،ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی مانگے ہوں یعنی جلدی میں بغیر کوڑا و نیزہ گھوڑے پر سوار ہوگئے تھے،پھر خیال آیا تو مانگا۔محرم صحابہ نے اٹھاکر دینے سے اس لیے انکار کیا کہ یہ شکار پر مدد ہے جو محرم کو حرام ہے۔

۴؎ یعنی محرم صحابہ شکار کا گوشت کھانے پر نادم ہوئے،ان کا خیال تھا کہ محرم کو شکار کا گوشت کھانا مطلقًا حرام ہے کسی طرح حلال نہیں، پہلے خیال نہ آیا کھالیا پھر خیال آیا تو پچھتائے۔

 



Total Pages: 445

Go To