$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2694 -[17]

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بحالت احرام ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا قدم کی پشت پرپچھنے لگوائے ۱؎(ابوداؤد،نسائی)

۱؎ چونکہ درمیان قدم پر بال ہوتے ہی نہیں لہذا وہاں فصد کی صورت میں بال دور کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لہذا اس حدیث میں کسی تاویل یا توجیہ کی ضرورت نہیں،خصوصًا جب کہ یہ فصد عذر کی بنا پر تھی،عذر میں تو بال مونڈکر فصد لینا بھی جائز ہے اگرچہ فدیہ واجب ہوگا۔(لمعات واشعہ وغیرہ)

2695 -[18]

وَعَن أبي رافعٍ قَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ وَبَنَى بِهَا وَهُوَ حَلَالٌ وَكُنْتُ أَنَا الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

روایت ہے حضرت ابو رافع سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت میمونہ سے حلال ہونے کی صورت میں نکاح کیا اور حلال ہی ہونے کی حالت میں ان سے زفاف فرمایا میں ہی دونوں کے درمیان پیغام رساں تھا ۲؎(احمد،ترمذی)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے۔

۱؎ آپ کا نام مصعب یا ابراہیم ہے،کنیت ابو رافع،آپ پہلے حضرت عباس کے غلام تھے،کسی قبطی نے آپ کو عطیہ دیا تھا،حضرت عباس نے بطور نذر حضور کو ان کا مالک بنادیا،بدر سے کچھ پہلے ایمان لائے مگر بدر میں حاضر نہ ہوسکے،جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو حضرت عباس کے ایمان لانے کی خبر دی تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے خوش ہوکر انہیں آزاد کردیا۔اکمال میں ہے کہ آپ کا انتقال شہادت حضرت عثمان سے کچھ پہلے ہوا ہے مگر بعض مؤرخین فرماتے ہیں کہ آپ کا انتقال خلافت مرتضوی میں ہوا۔(اشعہ و اکمال)مگر آپ آزاد ہونے کے بعد بھی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہی رہے۔

۲؎ اس کی تحقیق ابھی کچھ پہلے حضرت ابن عباس کی حدیث کے ماتحت ہوچکی کہ مسلم،بخاری نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ حضور نے یہ نکاح بحالت احرام کیا لہذا اس حدیث ابو رافع میں تزوّج کے معنے ہیں تیاری نکاح فرمائی اور ظاہر بھی یہی ہے کیونکہ رسالت و پیغام رسانی نکاح کے وقت نہیں بلکہ نکاح سے پہلے ہوتی ہے۔اَنَا الرَّسُوْلُ سے معلوم ہورہا ہے کہ نکاح سے پہلے کا واقعہ ہے۔وکیل نکاح حضرت عباس تھے،ان کے فرزند فرماتے ہیں کہ نکاح بحالت احرام ہوا لہذا حق یہی ہے کہ نکاح احرام میں ہواہے اور محرم کو نکاح کرنا جائز ہے صحبت حرام۔

۲؎ یعنی یہ حدیث صحیح نہیں بلکہ حسن ہے اور حدیث ابن عباس جس میں نکاح بحالت احرام ثابت ہے صحیح ہے مسلم،بخاری کی روایت ہے، لہذا وہ اس پر راجح ہے۔


 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html