$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۲؎ ابوجہل کا یہ اونٹ جنگ بدر میں بطور غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگا تھا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے لیا تھا اس سال مکہ معظمہ اسے لے جانا مشرکین کو جلانے کے لیے تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی کاموں سے مشرکوں کو جلانا بھی عبادت ہے،قربانی گائے میں یہ راز بھی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لِیَغِیۡظَ بِہِمُ الْکُفَّارَشعر

غیظ میں جل جائیں بے دینوں کے دل                   یارسول اﷲ کی کثرت کیجئے

بعض روایات میں ہے کہ تانبے کی بالی اس کے سر میں تھی،ہوسکتا ہے کہ اس کی ناک کان وغیرہ میں مختلف سوارخ ہوں کسی سوارخ میں سونے کی بالی ہو،کسی میں چاندی کی،کسی میں تانبے کی،روایات متعارض نہیں۔

2641 -[15]

وَعَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ؟ قَالَ: «انْحَرْهَا ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ خَلِّ بَيْنَ النَّاسِ وَبَيْنَهَا فَيَأْكُلُونَهَا».رَوَاهُ مَالك وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

2642 -[16]وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي عَن نَاجِية الْأَسْلَمِيّ

روایت ہے حضرت ناجیہ خزاعی سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ اس ہدی اونٹ کا میں کیا کروں جو تھک کر رہ جائے فرمایا اسے ذبح کردو پھر اس کی جوتی اس کے خون میں بھگو دو پھر اسے لوگوں میں چھوڑو کہ اسے کھالیں ۲؎(مالک،ترمذی، ابن ماجہ)ابوداؤد،دارمی نے یہ حدیث ناجیہ اسلمی سے روایت کی۳؎

۱؎ آپ کا نام ذکوان ابن جندب یا ابن عمرو ہے،چونکہ آپ نے قریش کے شر سے نجات حاصل کی تھی اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کا نام ناجیہ رکھا یعنی بہت نجات پانے والا۔امیر معاویہ کے زمانہ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی،آپ کا لقب صاحبِ بدن ہے یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے بدنے لے جانے والے۔(اکمال،اشعہ)

۲؎ یعنی جوہدی حرم شریف تک نہ پہنچ سکے راستہ ہی میں مرنے لگے تو اسے وہاں ہی ذبح کردو اور تمہارے ساتھیوں اور دوسرے لوگوں میں جو غریب فقیر ہوں وہ اس کا گوشت کھائیں۔اس سے معلوم ہوا کہ ہدی کا جانور صرف حرم شریف میں ذبح ہوسکتا ہے اور جگہ نہیں،اگر اس کی قربانی دوسری جگہ بھی ہوجاتی تو ہر فقیر وامیر بلکہ خود قربانی والے کو بھی کھانا جائز ہوتا،یہ بھی معلوم ہوا کہ بیمار جانور کا گوشت حلال ہے،حرام یا مکروہ نہیں۔

۳؎ تقریب میں ہے کہ ناجیہ ابن جندب ابن عمیر اسلمی اور صاحب ہیں اور ناجیہ ابن حارث خزاعی دوسرے صحابی ہیں،بعض لوگوں نے ان دونوں کو ایک سمجھ لیا یہ غلط ہے۔تہذیب میں ہے ناجیہ ابن جندب ابن کعب ابن جندب یا ناجیہ ابن کعب ابن عمیر ابن یعمر اسلمی ہیں مگر امام احمد نے انہیں ناجیہ اسلمی فرمایا۔(مرقات)اشعہ نے فرمایا کہ نسبتوں میں فرق ہے ذات ایک ہی ہے،کسی نے انہیں اسلمی کہا کسی نے خزاعی۔

2643 -[17]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ» . قَالَ ثَوْرٌ: وَهُوَ الْيَوْمُ الثَّانِي. قَالَ: وَقُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَنَاتٌ خَمْسٌ أَوْ سِتٌّ فطفِقْن يَزْدَلفْنَ إِليهِ بأيتهِنَّ يبدأُ قَالَ: فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا. قَالَ فَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَّةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا فَقُلْتُ: مَا قَالَ؟ قَالَ: «مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وَذَكَرَ حَدِيثَا ابنِ عبَّاسٍ وجابرٍ فِي بَاب الْأُضْحِية

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن قرط سے ۱؎  وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اﷲ کے نزدیک بہت عظمت والا دن بقرعید کا دن ہے ۲؎ پھر قرار کا دن،ثور فرماتے ہیں وہ دوسرا دن ہے۳؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پانچ چھ اونٹ ذبح کے لیے پیش کیے گئے تو وہ اپنے کو حضور کے آگے کرنے لگے کہ کس سے حضور ذبح شروع کریں ۴؎ پھر جب وہ کروٹوں کے بل گر گئے تو حضور نے آہستہ سے کچھ فرمایا جسے میں سمجھ نہ سکا،میں نے پوچھا ۵؎ کہ حضور نے کیا فرمایا تو بتایا کہ یہ فرمایا جو چاہے اسے کاٹ لے ۶؎(ابوداؤد)

اور حضرت ابن عباس و جابر کی حدیث قربانی کے باب میں ذکر کی گئی۔

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html