$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۳؎ یعنی احرام کے سارے کام غسل،تبدیلی لباس اور نوافل تو پہلے ادا کرلیے مگر بلند آواز سے تلبیہ اب کہا جائے گا،یہاں فقط حج کا ذکر ہے مگر حضرت انس کی روایت میں جو مسلم،بخاری میں ہے حج و عمرہ دونوں کا ذکر ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے قران کیا تھا شاید اس روای نے لفظ عمرہ سنا نہیں یا اس کا ذکر نہیں کیا کہ حج مقصود ہے اور عمرہ تابع۔

2628 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَهْدَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مرّة إِلَى الْبَيْت غنما فقلدها

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ایک بار نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیت اﷲ شریف کی طرف بکری ہدی بھیجی جسے ہار پہنادیا ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بکری کی ہدی بھی جائز ہے کہ اس کی قربانی جائز ہے۔دوسرے یہ کہ بکری کا اشعار نہ ہوگا بلکہ اسے صرف ہار یعنی رسی میں جوتا ڈال کر پہنایا جائے گا اس پر تمام آئمہ متفق ہیں۔تیسرے یہ کہ بکری کی ہدی میں ہار پہنانا سنت ہے، اس میں امام مالک کا اختلاف ہے۔خیال رہے کہ یہ بکری قربانی کی نہ تھی اسی لیے مکہ معظمہ بھیجی گئی،قربانی ہمیشہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ منورہ ہی میں کی ہے،جہلاء نے اس حدیث کی بنا پر کہہ دیا کہ قربانی صرف مکہ معظمہ میں ہوسکتی ہے اور جگہ نہیں ہوسکتی۔نعوذ باﷲ!

2629 -[3]

وَعَن جَابر قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ بَقَرَةً يَوْمَ النَّحْرِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عائشہ کی طرف سے بقر عید کے دن ایک گائے قربانی کی ۱؎(مسلم)

۱؎  غالبًا یہ قربانی ہے جو مدینہ منورہ میں کی گئی۔گائے میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں مگر ایک کی طرف سے بھی جائز ہے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ گائے کی قربانی بھی سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہے۔دوسرے یہ کہ کسی کا کار مختار اس کی طرف سے قربانی کرسکتا ہے،اذن خصوصی سے بھی اور اذن عمومی سے بھی اس لیے کہ یہاں ام المؤمنین کی خصوصی اجازت لینے کا ذکر نہیں، اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو محض ہندوؤں کو خوش کرنے کے لیے قربانی گائے روکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خلاف اسلام ہے، مرقات نے فرمایا کہ افضل قربانی اونٹ کی ہے پھر گائے کی۔

2630 -[4]

وَعنهُ قَالَ: نَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بَقَرَةً فِي حَجَّتِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے حج میں اپنی تمام بیویوں کی طرف سے ایک گائے قربانی کی ۱؎ (مسلم)

۱؎ یہ دوسرا واقعہ ہے جو حج میں ہوا اور یہ قربانی نہیں کیونکہ مسافر پر قربانی واجب نہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم حج میں مسافر تھے بلکہ یہ حج کا دم ہے نحر بمعنی ذبح ہے کیونکہ گائے کو نحر کرنا منع ہے اگر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے ایک گائے دی ہے تو یہ حضور کی خصوصات سے ہے،آپ نے تو اپنی ساری امت کے فقراء کی طرف سے ایک بکری بھی قربانی دی ہے،فقراء کروڑوں ہیں اور اگر یہ گائے کچھ ازواج کی طرف سے تھی اور کچھ ازواج کو ان سو اونٹوں میں شریک فرما لیا ہو تو عمومی حکم ہے۔امام مالک اس حدیث کی بناء پر فرماتے ہیں کہ ایک گائے تمام گھر والوں کی طرف سے درست ہے اگرچہ سات سے زیادہ ہوں مگر یہ استدلال کچھ کمزور سا ہے کہ اس میں وہ احتمالات ہیں جو عرض کیے گئے۔

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html