Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۴؎ یعنی حضرت ام سلمہ نے ان کاموں میں جلدی اس لیے کی کہ آج حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا قیام ان کے ہاں تھا تو آپ نے چاہا کہ ان عبادات سے جلد فارغ ہوجائیں تاکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت اچھی طرح کرسکیں کہ وہ تمام عبادات سے افضل ہے،دیگر ازواج کی چونکہ باری نہ تھی اس لیے انہوں نے دن چڑھے اطمینان سے رمی کی۔

2615 -[12]

وَعَن ابنِ عبَّاسٍ، قَالَ: يُلَبِّي المقيمُ أَوِ المعتَمِرُ حَتَّى يستلمَ الْحَجَرَ) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: وَرُوِيَ مَوْقُوفًا على ابنِ عبَّاس.

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہی کہ مقیم یا عمرہ کرنے والا حجر اسود چومنے تک تلبیہ کہے۱؎ (ابوداؤد) ابوداؤد نے فرمایا یہ حضرت ابن عباس سے موقوفًا مروی ہے۔

۱؎  یہ اَو راوی کے شک کی بنا پر ہے کہ سیدنا عبداﷲ ابن عباس نے مقیم فرمایا یا معتمر۔(لمعات)اور ہوسکتا ہے کہ مقیم سے مراد وہ شخص ہو جو مکہ مکرمہ میں ٹھہرا ہوا ہو خواہ وہاں کا باشندہ ہو یا باہر کا آدمی ٹھہر گیا اور معتمر سے مراد وہ ہے جو باہر سے عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ معظمہ وارد ہوا،دونوں سے مراد عمرہ کرنے والے ہی ہیں یعنی عمرہ والا کوئی بھی ہو مکہ کا یا باہر کا سنگ اسود چومتے ہی تلبیہ ختم کردے جیسے کہ حاجی جمرہ عقبہ کی رمی پر تلبیہ ختم کرتا ہے۔مرقات میں یہ حدیث اس باب میں تبعًالائی گئی کہ اس سے حج کے تلبیہ بند کرنے کا حکم اشارۃً معلوم ہوتا ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2616 -[13]

عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ سمع الشَّريدَ يَقُولُ: أَفَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا مَسَّتْ قَدَمَاهُ الْأَرْضَ حَتَّى أَتَى جمْعاً. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت یعقوب ابن عاصم ابن عروہ سے کہ انہوں نے حضرت شرید کو فرماتے سنا ۱؎  کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ عرفات چلا تو آپ کے قدم شریف زمین سے نہ لگے حتّٰی کہ مزدلفہ میں پہنچ گئے ۲؎(ابوداؤد)

۱؎ یعقوب ابن عاصم ابن عروہ ابن مسعودتابعی ہیں،ثقفی ہیں اور شرید ابن سوید کا نام مالک ہے،یہ زمانہ جاہلیت میں اپنی قوم کا ایک آدمی قتل کرکے مکہ بھاگ آئے تھے اس لیے ان کا لقب شرید ہوگیا۔(مرقات)

۲؎ یعنی سرکار عرفات سے مزدلفہ تک پیدل چلنے کے لیے کہیں نہ اترے سواری پر ہی رہے لہذا یہ حدیث اس روایت کے خلاف نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اس راہ میں ایک جگہ پیشاب کے لیے اترے،استنجاء فرماکر وضو کیا،عرض کیا گیا،حضور نماز مغرب ؟ فرمایا نماز آگے ہے،چونکہ یہاں چلنے کے لیے اترنے کی نفی ہے اور وہاں حاجت کے لیے اترنے کا ثبوت۔خیال رہے کہ پیدل حج کا بہت ثواب ہے کہ ہر قدم پر سات کروڑ نیکیاں کا وعدہ ہے اور سواری پر حج سنت رسول ہے ثواب اس کا زیادہ تقرب اس میں زیادہ جیسے بعد وتر نفل کھڑے ہو کر پڑھنے کا ثواب زیادہ اور بیٹھ کر پڑھنے کا تقرب زیادہ کہ سرکاریہ نفل بیٹھ کر ہی پڑھتے تھے،یہاں پیدل حج سے مراد مکہ مکرمہ سے عرفات جانا آنا ہے نہ کہ گھرسے پیدل جانا۔

2617 -[14]

وَعَن ابنِ شهابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ عَامَ نَزَلَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ: كَيْفَ نَصْنَعُ فِي الْمَوْقِفِ يَوْمَ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ سَالِمٌ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَهَجِّرْ بِالصَّلَاةِ يَوْمَ عَرَفَةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: صَدَقَ إِنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السُّنَّةِ فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: أَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ سَالِمٌ: وَهل يتَّبعونَ فِي ذلكَ إِلا سنَّتَه؟ رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت حضرت ابن شہاب سے فرماتے ہیں مجھے سالم نے خبر دی کہ جس سال حجاج ابن یوسف نے حضرت زبیر پر حملہ کیا ۱؎ تو اس نے حضرت عبداﷲ سے پوچھا کہ ہم عرفہ کے دن قیام گاہ میں کیا کریں سالم نے فرمایا کہ اگر تو سنت پر عمل چاہتا ہے تو عرفہ کے دن نماز ظہر دوپہری میں ہی پڑھ ۲؎ اس پر عبداﷲ ابن عمر نے فرمایا یہ سچے ہیں صحابہ کرام بطریق سنت ظہر و عصر جمع کر کے پڑھتے ۳؎ تھے تو میں نے سالم سے پوچھا کہ کیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی یہ عمل کیا ہے تو سالم نے فرمایا کہ صحابہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت ہی کی پیروی کرتے تھے۴؎(بخاری)

 



Total Pages: 445

Go To