Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۲؎ یعنی یہ ہمارا آخری حج ہے بلکہ مکہ مکرمہ کی حاضری بھی آخری ہے اور ہماری حیات کا آخری سال ہے،جو کچھ سیکھنا ہے ہم سے جلد سیکھ لو،اے مشتاق آنکھوں دیدار محبوب سیر ہوکر کرلو،پھر ترسو گے۔یہ لَعَلَّ یقین کے لیے ہے جیسے قرآن کریم میں جگہ جگہ لَعَلَّ فرمایا گیا اور دیکھنے سے مراد ان ظاہری آنکھوں سے دیکھنا ہے،ورنہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم بعد وفات بھی عالم کے ذرہ ذرہ کو ملاحظہ فرمارہے ہیں جس پر بہت دلائل قائم ہیں،دیکھو ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول انہی الفاظ کی بنا پر اس حج کا نام حجۃ الوداع ہوا کہ حضور نے اس میں اپنے وداع کی خبر دی اور امت کو وداع فرمایا اور ہوا بھی ایسا ہی کہ چند ماہ بعد یعنی بارہویں ربیع الاول کو وفات ہوگئی۔خیال رہے کہ ذی الحجہ     ۱۰ھ؁  میں حجۃ الوداع ہوا اور ربیع الاول       ۱۱ھ؁  میں وفات تین مہینہ بعد ۔

۳؎ اس میں مصنف پر دو اعتراض ہیں:ایک یہ کہ مصنف ترمذی کی حدیث فصل اول میں لے آئے،یہ ان کے قاعدہ کے خلاف ہے وہ فصل اول میں صرف شیخین کی روایات لاتے ہیں۔دوسرے یہ کہ روایت ترمذی کی بھی ترتیب الفاظ بدلی ہوئی ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2612 -[9]

وَعَن محمّدِ بنِ قيسِ بن مَخْرمةَ قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَدْفَعُونَ مِنْ عَرَفَةَ حِينَ تَكُونُ الشَّمْسُ كَأَنَّهَا عَمَائِمُ الرِّجَالِ فِي وُجُوهِهِمْ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ وَمِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بَعْدَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ حِينَ تَكُونُ كَأَنَّهَا عَمَائِمُ الرِّجَالِ فِي وُجُوهِهِمْ. وَإِنَّا لَا نَدْفَعُ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَنَدْفَعُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ هَدْيُنَا مُخَالِفٌ لِهَدْيِ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالشِّرْكِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان وَقَالَ فِيهِ: خَطَبنَا وَسَاقه بِنَحْوِهِ

روایت ہے حضرت محمد ابن قیس ابن مخرمہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے خطبہ ارشاد فرمایا تو فرمایا کہ جاہلیت والے جب عرفہ سے چلتے تھے ۱؎ جب کہ سورج ایسا ہوجاتا تھا جیسے لوگوں کی پگڑیاں ان کے چہروں میں۲؎  غروب سے پہلے اور مزدلفہ سے آفتاب چمکنے کے بعد جب کہ دھوپ ایسی ہوتی جیسے لوگوں کی پگڑیاں ان کے چہروں میں اور ہم عرفہ سے سورج ڈوبنے تک روانہ ہوں گے اور مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے چلیں گےہمارا طریقہ بت پرستوں اور مشرکوں کے خلاف ہوگا ۳؎ (بیہقی) وہاں یہ بھی روایت کی کہ ہم پر حضور نے خطبہ ارشاد کیا پھر اس کی مثل روایت کی ۴؎

۱؎  ظاہر یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ خطبہ عرفات میں دیا کیونکہ وہاں ارکان حج سکھائے جاتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ حج سے پہلے کسی جمعہ میں ارشاد فرمایا ہو تا کہ حج کو جانے والے ابھی سے احکام سیکھ لیں،اہلِ جاہلیت سے مراد قریش کے سواء دیگر کفار ہیں،قریش توعرفات جاتے ہی نہ تھے مزدلفہ سے ہی لوٹ جاتے تھے۔

۲؎ یعنی آفتاب ڈوبنے سے کچھ پہلے وہ عرفات سے روانہ ہوجاتے تھے جب سورج کنارہ مغرب میں پہنچ جاتا اور اس کی دھوپ چہروں پر ایسی ہلالی پڑتی تھی جیسے پیشانی پر عمامہ کا حصہ یعنی سروں پر دھوپ نہ رہتی صرف چہروں پر اس طرح رہتی یا مطلب یہ ہے کہ پہاڑوں پر دھوپ ایسی پڑتی تھی جیسے چہروں پر پگڑی کا کنارہ،عمامہ کی شکل نصف کرہ کی ہے ایسے ہی پہاڑوں پر دھوپ کی شکل ہوجاتی تھی۔

۳؎  خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین عرفات سے سورج ڈوبنے سے پہلے چلتے تھے اور مزدلفہ سے سورج نکلنے کے بعد اسلام میں اس کے برعکس ہے کہ عرفات سے سورج ڈوبنے کے بعد چلتے ہیں تاکہ وہاں ہی رات کی ایک ساعت بھی گزر جائے اور مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے



Total Pages: 445

Go To