Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

یَعْلَمُوۡنَ مَا تَفْعَلُوۡنَ"تو اگر اﷲ کے حبیب گنبد خضرا میں رہتے ہوئے ہمارے ہر عمل سے خبردار ہوں اور ہماری بدکاریوں کی ستاری اور ہماری گنہگاریوں کی شفاعت اور نیک کاریوں کی دعائے قبولیت فرماتے ہوں تو کیا تعجب ہے۔

۵؎ کیونکہ یہ اگرچہ بر ے ہیں مگر اچھی جگہ،اچھوں کی جگہ اور اچھوں کے پاس آگئے،میں نے انہیں بھی بخش دیا کہ اچھوں کا سا تھی بھی مجرم نہیں رہتا،اور لکڑی کے سنگ لوہا بھی تیر جاتا ہے۔

۶؎ چنانچہ حاکم کی روایت میں یوں ہے کہ اے میرے حاجی بندو اگر تمہارے گناہ ریگستانوں کے ذروں،پانی کے قطروں،درختوں کے پتوں کے برابر بھی ہوں جب بھی تمہیں بخش دیا، جاؤ میں نے تمہیں بھی بخشا اور جس کی تم سفارش کرو اس کو بھی بخشا۔(مرقات)اس حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ نویں بقر عید کو عام مسلمانوں کی بخشش ہوتی ہے حاجی ہوں یا غیر حاجی۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2602 -[11] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن عَائِشَة قَالَتْ: كَانَ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بالمزْدَلفَةِ وَكَانُوا يُسمَّوْنَ الحُمْسَ فكانَ سَائِرَ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ فَيَقِفُ بِهَا ثُمَّ يَفِيضُ مِنْهَا فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: (ثُمَّ أفِيضُوا من حَيْثُ أَفَاضَ النَّاس)

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں قریش اور ان کا طریقہ کرنے والے مزدلفہ میں ہی ٹھہر جاتے تھے ۱؎  اور انہیں حمس (بہادر وغیرہ)کہا جاتا تھا ۲؎ باقی عرب عرفات میں ٹھہرتے تھے پھر جب اسلام آیا تو اﷲ تعالٰی نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو حکم دیا کہ عرفات پہنچیں وہاں ہی ٹھہریں پھر وہاں سے واپس ہوں۳؎ یہ حکم ہے اﷲ عزوجل کا کہ تم وہاں سے چلو جہاں سے لوگ چلیں۴؎ (مسلم، بخاری)

۱؎ یعنی سرداران عرب خواہ قریش یا غیر قریش حج کے موقعہ پر اپنی بڑائی اس طرح ظاہرکرتے تھے کہ غریب حاجی تو عرفات پہنچتے تھے اور یہ لوگ مزدلفہ تک آکر لوٹ جاتے تھے۔

۲؎ حمس ح کے پیش سے احمس کی جمع، حماسہ سے بنا بمعنی سختی و بہادری اسی لیے کعبہ کو حمساء کہتے ہیں کہ وہ مضبوط پتھروں سے بنایا گیا،نیز وہ کہتے تھے کہ ہم حرم کے کبوتر ہیں حدود حرم سے آگے نہ بڑھیں گے۔

۳؎ کیونکہ حج کی جان اور اس کا رکن اعلٰی تو حج کا قیام ہی ہےجس سے یہ لوگ تکبر اور فخر کی بناء پر محروم رہے اے محبوب آپ وہاں ہی قیام کریں،صرف مزدلفہ سے واپس نہ ہوں۔معلوم ہواکہ متکبر انسان کبھی بڑی رحمتوں سے محروم رہتا ہے۔

۴؎ یعنی عرفات سے جہاں سے حجاج واپس ہوتے ہیں تاکہ متکبروں کا غرور ٹوٹے۔خیال رہے کہ قبرستان اور عرفات کا میدان،جماعت نماز کی صفیں وہ مقامات ہیں جہاں سب چھوٹے بڑے برابر کردیئے جاتے ہیں۔

2603 -[12]

وَعَن عبَّاسِ بنِ مِرْداسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِأُمَّتِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِالْمَغْفِرَةِ فَأُجِيبَ: «إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ مَا خَلَا الْمَظَالِمَ فَإِنِّي آخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنْهُ» . قَالَ: «أَيْ رَبِّ إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَ الْمَظْلُومَ مِنَ الْجَنَّةِ وَغَفَرْتَ لِلظَّالِمِ» فَلَمْ يُجَبْ عَشِيَّتَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ بِالْمُزْدَلِفَةِ أَعَادَ الدُّعَاءَ فَأُجِيبَ إِلَى مَا سَأَلَ. قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوِ قَالَ تبسَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّ هَذِهِ لَسَاعَةٌ مَا كُنْتَ تَضْحَكُ فِيهَا فَمَا الَّذِي أَضْحَكَكَ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ؟ قَالَ: «إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ دُعَائِي وَغَفَرَ لأمَّتي أخذَ الترابَ فَجعل يحشوه عَلَى رَأْسِهِ وَيَدْعُو بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ فَأَضْحَكَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ جَزَعِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَ رَوَى البيهقيُّ فِي كتاب الْبَعْث والنشور نحوَه

روایت ہے حضرت عباس ابن مرداس سے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے عرفہ کی شام اپنی امت کے لیے دعائے مغفرت کی ۲؎ تو جواب ملا کہ حقوق العباد کے سوا باقی گناہ بخش دیئے مظلوم کا حق تو لوں گا ۳؎ عرض کیا یارب اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت دے دے اور ظالم کو بخش دے ۴؎  اس شام کو تو جواب نہ ملا مگر جب مزدلفہ میں حضور نے صبح کی تو وہ ہی دعا دوبارہ کی تب آپ کا سوال پورا کیا گیا ۵؎ راوی فرماتے ہیں تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہنسے یا مسکرائے ۶؎ خدمت عالی میں حضرت ابوبکر و عمر نے عرض کیا ہمارے ماں باپ فدا اس گھڑی حضور ہنسا نہ کرتے تھے اﷲ حضور کو خوش و خرم رکھے کیا چیز آپ کو ہنسارہی ہے ۷؎ فرمایا کہ جب اﷲ کے دشمن ابلیس نے دیکھا کہ اﷲ تعالٰی نے میری دعا قبول کرلی اور میری امت کو بخش دیا ۸؎ تو مٹی اٹھا کر اپنے سر پر ڈالنے لگا اور ہائے وائے پکارنے لگا ۹؎ ہم نے جو اس کی گھبراہٹ دیکھی جس سے ہمیں ہنسی آگئی۱۰؎(ابن ماجہ)اور بیہقی نے کتاب البعث و النشور میں اس کی مثل روایت کی ۱۱؎

 



Total Pages: 445

Go To