$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۲؎  ذنوب کی معافی عفو ہے اور عیوب کی معافی عافیت یا دنیا میں معافی عفو ہے اور آخرت میں معافی عافیت،رکن یمانی اور سنگِ اسود کے درمیان بحالت طواف یہ دعا ضرور مانگے۔

۳؎ یعنی چونکہ اس جگہ کی دعا پر رکن یمانی والے یہ فرشتے آمین کہتے ہیں اس لیے یہاں جامع دعا مانگنی چاہیے،یہ مطلب نہیں کہ اس دعا پر تو آمین کہتے ہیں اور اگر کوئی اور دعا مانگی جائے تو آمین نہ کہیں۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ طواف کے چکروں میں دعائیں مقرر نہیں کہ فلاں چکر میں یہ دعا مانگے فلاں میں یہ،ہاں بحالت طواف قرآن مجید حضور انور سے ثابت نہیں،بہتر یہ ہے کہ دعائیں ہی مانگے۔

2591 -[31]

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا بِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَكُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ. وَمَنْ طَافَ فَتَكَلَّمَ وَهُوَ فِي تِلْكَ الْحَالِ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ بِرِجْلَيْهِ كَخَائِضِ الماءِ برجليه ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے ان ہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بیت اﷲ کا طواف سات چکرکرے اور اس کے سوا اور بات چیت نہ کرے ۱؎ کہ اﷲ پاک ہے،اﷲ کی تعریف ہے،اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں،اﷲ بہت بڑا ہے، اﷲ کے سوا نہ طاقت ہے نہ قوت تو اس کے دس گناہ مٹادیئے جائیں گے اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے دس درجے بلند ہوں گے ۲؎ اور جو شخص طواف کرے اور اسی حالت میں باتیں کرے تو رحمت میں اپنے دونوں پاؤں سے ایسے گھس جائے گا جیسے پانی میں پاؤں سے گھس جاتا ہے ۳؎(ابن ماجہ)

۱؎  نہ دنیاوی بات کرے نہ تلاوت قرآن یا یہ مطلب ہے کہ سوائے اس کے اور کوئی دعا ہی نہ مانگے۔خیال رہے کہ رکن یمانی اور سنگ اسود کا درمیانی فاصلہ اس حکم سے علیحدہ ہے،وہاں وہ دعا مانگے جو ابھی گزر چکی لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں۔

۲؎ یعنی پورے طواف کا یہ فائدہ ہوگا یا ہر چکر کا یا ہر دفعہ یہ دعا پڑھنے کا مگر پہلا احتمال زیادہ قوی ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ اﷲ کی حمد کرنا بھی دعا ہے،دیکھو ان کلمات میں دعائیہ لفظ ایک بھی نہیں،صرف رب کی حمد و ثناء ہے مگر اس کے اتنے بڑے فائدے ہیں۔خیال رہے کہ یہ فائدے ہم گنہگاروں کے لیے ہیں،بے گناہ بندوں کے لیے تیس درجوں کی بلندی ہوگی۔

۳؎ اس جملے کی بہت شرحیں ہیں۔محقق شرح یہ ہے کہ باتیں کرنے سے مراد یہی کلمات بولنا ہیں،چونکہ ان کلمات کا اب دوسرا فائدہ بیان ہورہا ہے اس لیے اس طرح ارشاد فرمایا،بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ جو شخص طواف میں دنیوی باتیں کرے وہ تو گھٹنوں گھٹنوں دریائے رحمت میں آجاتا ہے اور جو گزشتہ کلمات پڑھے وہ دریائے رحمت میں غوطے لگاتا ہے مگر یہ شرح ضعیف سی ہے کیونکہ مسجد میں خصوصًا طواف میں دنیوی باتیں مکروہ ہیں جن سے نیکیاں برباد ہوتی ہیں اس پر ثواب کا وعدہ کیسا،حضرت آدم علیہ السلام نے جب بیت اﷲ کا طواف کیا تو آپ سے فرشتوں نے مصافحہ کرکے عرض کیا کہ ہم دو ہزار سال سے یہاں طواف کررہے ہیں،آپ نے پوچھا کہ تم طواف میں کیا پڑھتے ہو وہ بولے سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُﷲِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرُ تو آپ نے فرمایا کہ ہم اس پر یہ زیادہ کیا کریں گے وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲ۔(مرقات)


 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html