$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2589 -[29] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْت عمر يقبل الْحجر وَيَقُول: وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ مَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقبل مَا قبلتك

روایت ہے حضرت عابس ابن ربیعہ سے فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر کو دیکھا کہ آپ سنگِ اسود چومتے تھے اور کہتے تھے میں جانتا ہوں تو پتھر ہے نہ نفع دے نہ نقصان ۱؎ اگر میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎  یعنی اے سنگ اسود میں تجھے پوجتا نہیں بلکہ چومتا ہوں،تجھے عبادت کا بوسہ نہیں دیتا بلکہ تعظیم کا بوسہ دیتا ہوں کیونکہ عبادت اس اﷲ کی ہے جو بذات خود نفع نقصان کا مالک ہے یہ اس لیے فرمایا کہ عہد فاروقی کے نو مسلم لوگ جواب تک پتھر پوجتے تھے وہ اس تعظیم کو پتھر کی عبادت نہ سمجھ لیں۔مرقات میں ہے کہ یہاں نفع نقصان سے مراد بالذات نفع پہنچانا ہے ورنہ اسود بحکم پروردگار بہت نافع ہے کہ اس کا چومنا عبادت اور باعث ثواب ہے اور ابھی کچھ پہلے عبداللہ ابن عباس کی روایت گزر چکی کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا قیامت میں اس کی آنکھیں بھی ہوں گی اور زبان بھی،اپنے اخلاص سے چومنے والوں کے ایمان کی گواہی دے گا۔

۲؎  یعنی تجھے چومنا ایک تعبدی چیز ہے اور حضور انور کی اتباع میں ہے اس جگہ ملا علی قاری نے مرقاۃ میں اور شیخ عبدالحق نے اشعۃ اللمعات میں،مولانا عبدالحَی لکھنوی نے فدایۃ الھدایہ اور ابن حمام نے بروایت حاکم فرمایا کہ فاروق اعظم کے اس فرمان پر حضرت علی مرتضیٰ نے فرمایا اے امیر المؤمنین یقینًا  سنگ اسود مفید بھی ہے اور مضر بھی،رب العالمین نے تمام روحوں سے جو اپنی وحدانیت کا اقرار لیا تھا وہ اقرار نامہ اسی پتھر میں محفوظ ہے اور یہ قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کی آنکھیں و ہونٹ ہوں گے،مخلصین کی گواہی دے گا،یہ اﷲ کا امین ہے تو حضرت عمر نے فرمایا کہ ابوالحسن جس زمین میں تم نہ ہو مجھے خدا و ہاں نہ رکھے۔مرقات نے فرمایا کہ حدیث بشرط شیخین نہیں ہے کیونکہ اس کی اسناد میں ابو ہارون عبدی ہیں جن سے مسلم و بخاری حدیث نہیں لیتے(یعنی حدیث صحیح ہے اگرچہ بشرط شیخین نہیں)اسی جگہ مرقات نے فرمایا مستحب یہ ہے کہ سنگ اسود کو چومنے کے بعد اس پر پیشانی رکھ کر سجدہ بھی کرےاور ابن حمام نے فرمایا کہ ابن ماجہ میں بروایت حضرت ابن عمر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے سنگِ اسود پر ہونٹ مبارک رکھے اور بہت دیر تک روتے رہے پھر فاروق اعظم سے فرمایا کہ اے عمر اس جگہ آنسو بہائے جاتے ہیں۔ (مرقات)فقیر حقیر احمد یار کہتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس زمانہ کے جہلا کا انتظام فرماتے ہوئے سنگ اسود سے یہ فرمایا اور حضرت علی مرتضٰی نے قیامت تک کے وہابیوں کا انتظام فرماتے ہوئے اس کے یہ فضائل بیان فرمائے دونوں بزرگوں کے کلام برحق ہیں اور مسلمانوں کو مفید۔

2590 -[30]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وُكِّلَ بِهِ سَبْعُونَ مَلَكًا» يَعْنِي الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ " فَمَنْ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قَالُوا: آمين ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس پر یعنی رکن یمانی پر ستر فرشتے مقرر ہیں ۱؎  تو جو کہتا ہے الٰہی میں تجھ سے معافی اور امن و عافیت دینی و دنیاوی مانگتا ہوں ۲؎  اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے تو فرشتے کہتے ہیں آمین ۳؎(ابن ماجہ)

۱؎  یعنی بہٖ کی ضمیر کا مرجع ر کن یمانی ہے،یہ تفسیر غالبا ً حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہے۔

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html