Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2584 -[24]

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ مُضْطَجعا بِبُرْدٍ أَخْضَرَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے حضرت یعلی ابن امیہ سے ۱؎  فرماتےہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے سبز چادر بغل سے نکالے ہوئے بیت اﷲ کا طواف کیا ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ، دارمی)

۱؎ آپ صحابی ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے،غزوہ حنین،طائف و تبوک میں حاضر ہوئے، حضرت عمر کی طرف سے نجران کے حاکم تھے،جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ رہے،اسی جنگ میں شہید ہوئے۔

۲؎ اضطباع کے معنی عرض کیے جاچکے ہیں کہ احرام کی چادر داہنی بغل کے نیچے سے نکال کر داہنا کندھا کھلا رکھنا اور بایاں کندھا ڈھکا رکھنا،چادر برد یمانی تھی،یہ ہی حضور انور کا محبوب کپڑا تھا۔علماء فرماتے ہیں کہ سبز چادر سے مراد مخطط   بسبز  ہے نہ کہ خالص سبز کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی خالص سبز یا سرخ کپڑا نہیں پہنا،اضطباع یعنی داہنا کندھا کھولنا صرف اس طواف کے وقت مستحب ہے، بعض حجاج احرام کے وقت سے ہی کندھا کھلا رکھتے ہیں یہ غلط ہے اس طرح نماز مکروہ ہوگی۔(مرقات)بعض وارثی فقراء ہمیشہ احرام کا لباس پہنتے ہیں اس میں حرج نہیں لیکن اضطباع نہ کریں اور نہ ننگے سر رہیں۔

2585 -[25]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم وأصحابَه اعتمروا من الجعْرانة فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَجَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ ثُمَّ قَذَفُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمُ الْيُسْرَى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کیا ۱؎ تو بیت اﷲ شریف کا تین بار رمل کیا اور اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے لیا پھر انہیں اپنے بائیں کندھے پر ڈالا ۲؎(ابوداؤد)

۱؎ جعرانہ مکہ معظمہ سے جانب طائف ایک منزل فاصلہ پر ہے وادی حنین سے وھوازن سے متصل اسی جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے غزوہ حنین کی غنیمتیں تقسیم فرمائیں اور یہاں سے ہی عمرہ کیا،یہاں سترہ دن یا کچھ کم و بیش قیام فرمایا،اب بھی بعض عشاق مکہ معظمہ سے یہاں آکر عمرہ کا احرام باندھتے ہیں جسے بڑا عمرہ کہتے ہیں،فقیر نے اس مقام کی زیارت کی ہے۔اشعہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ عمرہ راتوں رات کیا تھا،کسی کو اطلاع نہ تھی،صحابہ کرام نے اس کے بعد دوسرے وقت میں عمرہ کیا۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ اضطباع صرف طواف میں کیا جائے گا نہ سعی میں ہوگا نہ کسی اور وقت یہی امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کا مذہب ہے،امام شافعی کے ہاں سعی میں اضطباع سنت ہے طواف پر قیاس کرتے ہوئے مگر یہ استدلال کمزور ہے کیونکہ طواف میں اضطباع رمل کی طرف شجاعت ظاہر کرنے کے لیے تھا،حضور انور نے اور کسی موقع پر نہ اضطباع کیا نہ رمل۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2586 -[26] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَا تَرَكْنَا اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ: الْيَمَانِي وَالْحَجَرِ فِي شِدَّةٍ وَلَا رخاء مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يستلمهما

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں ہم نے رکن یمانی و اسود کا چومنا چھونا سہولت یا دشواری میں کبھی نہ چھوڑا جب سے میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو انہیں چومتے دیکھا ۱؎(مسلم، بخاری)

 



Total Pages: 445

Go To