Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۵؎ کیونکہ طواف مسجد میں ہوتا ہے اور حائضہ عورت مسجد میں جا نہیں سکتی،نیز بعد والی سعی بھی نہیں کرسکتی سعی طواف کے بعد میں چاہیے۔

2573 -[13] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ فِي رَهْطٍ أَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ: «أَلَا لَا يَحُجُّ بَعْدَ العامِ مشرِكٌ وَلَا يطوفَنَّ بِالْبَيْتِ عُرْيَان»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں حضرت ابوبکر نے اس حج میں جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں امیر الحج بنایا تھا یعنی حجۃ الوداع سے پہلے ۱؎ بقرعید کے دن مجھے ایک جماعت میں بھیجا جسے آپ نے حکم دیا کہ لوگوں میں یہ اعلان کردو ۲؎ کہ خبردار اس سال کے بعد کوئی کافر حج نہ کرے اور کوئی ننگا طواف نہ کرے ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ فتح مکہ کے بعد     ۹ھ؁  میں حج فرض ہوا مگر اس سال حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم حج کو تشریف نہ لے گئے کیونکہ حضور کو علم تھا کہ ابھی ہماری وفات ہونے والی نہیں اور دینی امور میں بہت مشغولیت تھی بلکہ حضرت صدیق اکبر کو مع حضرت علی چند صحابہ کے امیر الحج بنا کر بھیجا تاکہ وہ مسلمانوں کو حج بھی کرا دیں اور یہ اعلان بھی کردیں اس میں خلافت صدیقی کی طرف اشارہ ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے صدیق اکبر ہی کو حج کا امام بنایا اور انہیں کو نماز کا امام بناکر اپنے مصلےٰ پر کھڑا کیا عمل استخلاف ہوگیا۔

۲؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے جناب صدیق کو حج کا امیر بنایا اور جناب صدیق نے مجھے اس کا اعلان کا حکم دیا،چونکہ اس جماعت مؤذن میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ امیر تھے دوسرے حضرات مامور اس لیے ضمیر واحد ارشاد ہوئی۔

۳؎  سوائے قریش کے باقی تمام کفار عرب بالکل ننگے طواف کرتے تھے کہتے تھے کہ قریش تو ہوئے بے گناہ ہم ہیں گنہگار،ہم ان کپڑوں میں طواف نہ کریں گے جن میں گناہ کرتے رہے ہیں یا آئندہ گناہ کریں لہذا نہ تو پرانے کپڑوں میں طواف کرتے تھے نہ نئے سلوا کر ان نئے کپڑوں میں،ہاں اگر کسی کو قرشی کرایہ پر کپڑا دے دیتا وہ پہن کر طواف کرسکتا تھا،ان کپڑوں کے کرایہ سے انہیں بہت آمدنی تھی، اس اعلان میں دو چیزوں سے روکا گیا:مشرکوں و کفار کو حج کرنے سے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّمَا الْمُشْرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا"مشرک و کفار گندے ہیں اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ آئیں۔دوسرے ننگے طواف کرنے سے،رب تعالٰی فرماتاہے:"خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمْ عِنۡدَ کُلِّ مَسْجِدٍ"۔اس سے معلوم ہوا کہ عام مسجدوں میں کفار کو اپنی عبادات کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔خیال رہے کہ ننگے طواف کرنا ہمیشہ ہی کے لیے منع فرمادیا گیا حج میں ہو یا بعد حج،یہ حکم دائمی ہے غیرمنسوخ۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2574 -[14]

عَنِ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ قَالَ: سُئِلَ جَابِرٌ عَنِ الرَّجُلِ يَرَى الْبَيْتَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فَقَالَ قَدْ حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَكُنْ نَفْعَلُهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت مہاجر مکی سے فرماتے ہیں کہ حضرت جابر سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو بیت اﷲ کو دیکھ کر اپنے ہاتھ اٹھائے فرمایا ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حج کیا ہم تو یہ نہ کرتے تھے ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد)

 



Total Pages: 445

Go To