Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

باب دخول مکۃ و الطواف

باب مکہ کا داخلہ اور طواف  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎   اس باب میں دو باتیں ہوں گی:مکہ معظمہ میں داخلہ کے آداب کہ کس وقت آئے،کس طرف سے آئے اور کدھر سے جائے اور طواف کعبہ کا طریقہ کہ طواف کس عمل سے شروع کرے اور کس پر ختم کرے۔مکہ مکٌّ سے بنا بمعنی ہلاکت اور سر کچل ڈالنا،چونکہ اﷲ تعالٰی نے کئی بار مکہ معظمہ کے دشمنوں کو ہلاک کیا،انہیں کچل ڈالا اس لیے اسے مکہ کہتے ہیں یا چونکہ مکہ معظمہ متکبرین و غرور والوں سے مجاہدے ریاضات کرا کے ان کے تکبرکو کچل ڈالتا ہے لہذا مکہ کہلاتاہے۔مکہ معظمہ کے نام و فضائل ان شاءاﷲ  آخرباب حج میں بیان ہوں گے، صاحب مشکوٰۃ خود اس کا ایک باب باندھیں گے۔

2561 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ لَا يَقْدَمُ مَكَّةَ إِلَّا بَاتَ بِذِي طُوًى حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ وَيُصَلِّيَ فَيَدْخُلَ مَكَّةَ نَهَارًا وَإِذَا نَفَرَ مِنْهَا مَرَّ بِذِي طُوًى وَبَاتَ بِهَا حَتَّى يُصْبِحَ وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر کبھی مکہ معظمہ داخل نہ ہوتے مگر پہلے صبح تک ذی طویٰ میں رات گزار لیتے غسل کرتے،نماز پڑھتے پھر دن میں مکہ معظمہ میں داخل ہوتے ۱؎  اور جب مکہ سے واپس ہوتے تو  ذی طویٰ پرگزرتے وہاں رات گزارتے حتی کہ صبح ہوجاتی اور فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم یہ عمل کرتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎  ذی طویٰ مکہ معظمہ سے قریب مدینہ کے راہ ایک چھوٹی سی بستی یا کنواں کا نام ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم وہاں رات میں پہنچ گئے تھے،رات وہاں گزارکر بعد نماز فجر وہاں سے چلے تھے اور دن میں مکہ معظمہ داخل ہوئے تھے، حضرت ابن عمر اس سنت پر عامل رہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ مکہ معظمہ دن میں داخل ہونا کہ کعبہ معظمہ پر پہلی نظر ہیبت و جلال سے پڑے اور دعا خوب دل سے مانگی جائے،اول نظر پر دعا بہت قبول ہوتی ہے،کعبہ کی تجلی دن میں خوب نظر آتی ہے۔بہتر یہ ہے کہ چاشت کے وقت داخل ہو۔(اشعہ)غسل کر کے  مکہ معظمہ میں داخل ہونا بہت بہتر ہے۔(مرقات)نسائی شریف میں ہے  کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حج  کےموقعہ پر  دن میں مکہ معظمہ تشریف لائے اور عمرہ کے وقت رات میں۔سیدنا عبداﷲ ابن عمر رات کے وقت مکہ معظمہ میں داخل ہونے سے منع فرماتے تاکہ حجاج کا سامان گڑبڑ نہ ہو۔ابن حبان میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ انبیاءکرام مکہ معظمہ میں پیدل برہنہ پا داخل ہوتے تھے،عبداﷲ ابن عمر سے روایت ہے کہ حج کعبہ سات لاکھ بنی اسرائیل نے کیا جو مقام تنعیم سے ننگے پاؤں ہوجاتے تھے۔(مرقات)

۲؎ واپسی پر ذی طویٰ میں رات گزارنا اس لیے تھا کہ تمام صحابہ جمع ہوجائیں اور اب یہاں سے سفر مدینہ کی تیاری کرلی جائے غرضکہ آتے جاتے دونوں بار ذی طویٰ میں قیام فرمایا مگر مختلف مصلحتوں سے۔

2562 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَ إِلَى مَكَّةَ دَخَلَهَا مِنْ أَعْلَاهَا وخرجَ منْ أسفلِها

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب مکہ معظمہ آئے تو مکہ کے اوپر کے حصہ سے داخل ہوئے اور اس کے نچلے حصے سے تشریف لے گئے ۱؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 445

Go To