Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

مرآت جلد چہارم

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

باب ما یقول عند الصباح و المساء و المنام

باب صبح شام اور سوتے وقت کیا کہے ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ صبح شام سے مراد دن کے دونوں کنارے ہیں،یعنی نماز فجر سے پہلے اور بعد تاطلوع آفتاب اور مغرب کی نماز کے بعد سے تاغروب شفق۔منام مصدر میمی بھی ہوسکتا ہے اور ظرف بھی یعنی سونے پر یا سونے کے وقت کیا پڑھے۔ظاہر یہ ہے کہ یہاں سونے سے مراد رات کا سونا ہے نہ کہ دوپہر کا قیلولہ و آرام کیونکہ اس باب میں رات کے سونے ہی کی دعائیں بیان ہونگی۔رات میں اصل آرام ہے،دنیاوی کاروبار اس کے تابع ہے  اور دن میں اصل کاروبار ہے،سونا اس کے تابع،رب فرماتا ہے:"وَّجَعَلْنَا الَّیۡلَ لِبَاسًا وَّ جَعَلْنَا النَّہَارَمَعَاشًا"لہذا حقیقتًا سونے کا وقت رات ہی ہے۔

2381 -[1]

عَن عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَى قَالَ: «أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَسُوءِ الْكِبَرِ وَفِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ»وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ أَيْضًا: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّار وَعَذَاب فِي الْقَبْر» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبداﷲ بن مسعود سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب شام پاتے تو فرماتے ہم نے شام پائی اور اﷲ کے ملک نے شام پائی سب تعریفیں اﷲ کو ہیں ۱؎  اس اکیلے کے سواء کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اس کا ملک ہے،اس کی حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۲؎  الٰہی میں تجھ سے اس رات کی اور جو اس رات میں ہے اس کی بھلائی مانگتا ہوں اور اس رات کی اور جو اس میں ہے اس کی شر سے تیری پناہ لیتا ہوں۳؎  خدایا میں سستی،بڑھاپے اور زیادتی عمر کی برائیوں سے۴؎  اور دنیا  کے فتنوں سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ لیتا ہوں ۵؎ اور جب سویرا پاتے تو ساتھ یہ بھی کہتے ہم نے سویرا پایا اور اللہ کے ملک نے سویرا پایا ۶؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ یارب میں آگ میں عذاب اورقبر میں عذاب سے تیری پناہ لیتا ہوں۷؎ (مسلم)

۱؎  یعنی خدا  کا  شکر ہے کہ ہم نے بخیریت دن گزار لیا اور شام پالی،ہمارے ساتھ رب تعالٰی کے ملک نے بھی شام پالی،یہ دونوں چیزیں اﷲ کی نعمتیں ہیں،اگر ملک تباہ ہوجاتا صرف ہم ہی رہ جاتے تب بھی مصیبت تھی۔یہاں ملک سے مراد عالم اجسام سفلی ہے جہاں دن رات ہوتے ہیں۔عالم انوار، عالم امر،جنت دوزخ وغیرہ میں نہ دن ہو نہ رات وہاں تو رب کی تجلی ہے نہ کہ سورج کی جیسے قیامت میں ہوگا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوۡرِ رَبِّہَا

۲؎  یعنی ان دن رات کے آنے جانے صبح و شام کی تبدیلیوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو گردش دینے والا  اکیلا معبود ہے جس کا کوئی ساتھی نہیں اور ہر چیز پر قادر ہے۔سبحان اﷲ! کیسا پیارا  استدلال ہے کہ گھومنے والی چیزوں سے گھمانے والے کی قدرت کا پتہ لگاؤ۔

 



Total Pages: 445

Go To