$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۱؎ یعنی آپ نے سلے کپڑے اتار دیئے اور غسل کر کے بغیر سلے کپڑے پہنے،پھر نفل پڑھ کر تلبیہ کہا۔معلوم ہوا کہ احرام کے وقت غسل سنت ہے اگرچہ وضو بھی جائز ہے۔

2548 -[9]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّدَ رَأْسَهُ بِالْغِسْلِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے احرام کے لیے اپنے سر کے بال شریف خطمی سے چپکائے ۱؎ (ابوداؤد)

۱؎ یہاں غسل غین کے کسرہ سے ہے،مَا یُغْسِلُ بِہٖ جس سے غسل کیا جائے،چونکہ خطمی سے نہاتے ہیں اس لیے غسل کہہ دیتے ہیں۔ احناف کے نزدیک یہ غسل اور بال شریف چپکانا احرام کے وقت نہ تھا بلکہ احرام سے پہلے تھا کیونکہ بحالت احرام بال چپکانا منع ہے، بعض لوگوں نے اسے عسل پڑھا بمعنی شہد مگر یہ غلط ہے۔

2549 -[10]

وَعَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يرفَعوا أصواتَهم بالإِهْلالِ أَو التَّلبيَةِ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے حضرت خلاد ابن سائب سے وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے میرے پاس جبریل آئے مجھے حکم پہنچایا کہ میں اپنے صحابہ کو حکم دوں ۱؎ کہ احرام یا تلبیہ اونچی آواز سے کریں ۲؎(مالک،ترمذی،ابوداؤد،نسائی، ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ یہ ترجمہ نہایت موزوں ہے کہ جبریل نے مجھے حکم پہنچایا خود حکم دیا نہیں بلکہ حکم الٰہی بطور قاصد پہنچایا کیونکہ حضرت جبرئیل حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے خادم خاص اور پیغام رساں ہیں،خدام حکم دے نہیں سکتے اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اپنی امت کے نبی مطاع ہیں حضور انہیں حکم دیں گے اسی لیے جبرئیل امین خود صحابہ سے نہیں کہتے تھے کہ میں جبرئیل تمہیں یہ حکم دیتا ہوں،بلکہ حضور سے کہلواتے تھے۔

۲؎ شک راوی کو ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اھلال فرمایا یا تلبیہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو شک نہیں ہے۔اصحاب سے مراد ساری امت کے مرد ہیں،عورتوں کو اونچی آوا زسے تلبیہ کہنا منع ہے،وہ اتنی پست آواز سے کہیں کہ خود اپنی آوا زسن سکیں،مرد بھی اتنی اونچی آواز نہ کریں کہ مشقت میں پڑھ جائیں بلکہ درمیانی اونچی آواز سے کہیں۔ (مرقات)یہ بلند آواز سنت ہے جس کا ثواب زیادہ ہے اگر پست آواز سے کہیں تو گنہگار نہیں ہاں ثواب کم ہوجائے گا۔

2550 -[11]

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُلَبِّي إِلَّا لَبَّى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ: مِنْ حَجَرٍ أَوْ شَجَرٍ أَوْ مَدَرٍ حَتَّى تنقطِعَ الأرضُ منْ ههُنا وههُنا ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا کوئی مسلمان نہیں جو تلبیہ کہے مگر انتہا زمین تک ادھر ادھر یعنی دائیں بائیں کے تمام پتھر درخت ڈھیلے تلبیہ کہتے ہیں ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)

۱؎ اس طرح کہ حاجی کے قریب کے درخت و پتھراور کنکر تلبیہ کہتے ہیں۔ان سے سن کر ان کے قریب کے کنکر پتھر وغیرہ ان سے سن کر ان کے قریب کے یہاں تک کہ ساری دنیا کے کنکر پتھر ڈھیلے تلبیہ کا شور مچاتے ہیں۔یہ تلبیہ بزبان قال کہتے ہیں صر ف زبان حال سے



Total Pages: 445

Go To
$footer_html