$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۳؎ بیہقی و ترمذی میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے احرام کے نفل پڑھتے ہی تلبیہ ہی کہا اسے بیہقی نے توضعیف کہا مگر ترمذی نے حسن فرمایا،ابوداؤد نے حضرت عبداﷲ ابن عباس سے ان دونوں حدیثوں کی تطبیق یوں روایت کی،بعض لوگوں نے حضور کا نفل کے بعد والا تلبیہ سنا انہوں نے وہ روایت کردیا اور دوسروں نے ناقہ پر سوار ہوتے وقت کا تلبیہ سنا انہوں نے وہ روایت کردیا،دونوں وقت تلبیہ کہنا سنت ہے۔(ازمرقات)امام شافعی کے ہاں پہلے تلبیہ اونٹ پر سوار ہوکر کہے،امام اعظم کے ہاں نفل سے فارغ ہوتے ہی کہے،امام مالک و احمد،امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہم کے ساتھ ہیں،یہ ہی عمل بہتر ہے۔(لمعات)

2543 -[4]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صراخا. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نکلے کہ حج کا خوب شور مچاتے تھے ۱؎ (مسلم)

۱؎ کیونکہ صحابہ نے اولًا صرف حج کا احرام باندھا تھا پھر انہیں حکم دیا گیاتھا  کہ اس احرام میں عمر ہ بھی داخل کرلیں اور بجائے افراد کے قران کریں یہ اول حالت کا ذکر ہے لہذا یہ حدیث آئندہ احادیث کے خلاف نہیں۔ اولًا ان حضرات نے تلبیہ میں صرف حج کا ذکر کیا پھر حج وعمرہ دونوں کا۔

2544 -[5]

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ وَإِنَّهُمْ لَيَصْرُخُونَ بهِما جَمِيعًا: الْحَج وَالْعمْرَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضر ت انس سے فرماتے ہیں میں حضرت ابو طلحہ کا ردیف تھا  ۱؎  تمام صحابہ حج و عمرہ دونوں کا شور مچاتے تھے۲؎(بخاری)

۱؎ حضرت ابوطلحہ جناب انس کے سوتیلے والد ہیں،ایک گھوڑے یا اونٹ پر دوشخص سوار ہوں تو پیچھے والے کو ردیف کہا جاتا ہے یعنی میں اپنے والد کے پیچھے ایک ہی اونٹ پر سوار تھا۔

۲؎ یعنی خود حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ تلبیہ میں حج و عمرہ دونوں میں تلبیہ کا نام پکارتے تھے"لبیك اللھم لبیك بالحج والعمرۃ"۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور عام صحابہ کرام نے حجۃ الوداع میں قران کیا اور قران افرادو تمتع دونوں سے افضل ہے۔دوسرے یہ کہ قارن تلبیہ میں بار بار حج و عمرہ کا نام لے یہ ہی امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا مذہب ہے،امام شافعی کے ہاں افراد قران سے افضل ہے اور صرف پہلے تلبیہ میں حج و عمرہ کا ذکر کرے پھر نہیں،یہ حدیث ان کے مخالف ہے امام اعظم کی مؤید ہے۔

2545 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلَّ وَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ 

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سال نکلے تو ہم میں بعض وہ تھے جنہوں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا ۱؎ اور ہم میں بعض وہ تھے جنہوں نے حج و عمرہ کا احرام باندھا اور بعض وہ تھے جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حج کا احرام باندھا تھا ۲؎ تو جس نے عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ تو کھل گئے ۳؎ لیکن جس نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج و عمرہ جمع کیا تھا وہ دسویں تاریخ تک نہ کھلے ۴؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html