$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

کہ احرام میں خوشبو لگی رہنا،حضور انور کی خصوصیات سے ہے،ورنہ اس شخص کو خوشبو دھونے کا حکم کیوں دیتے مگر یہ استدلال کمزور ہے کیونکہ اس شخص نے بعد احرام خوشبو لگائی تھی۔(ابن ہمام و مرقات)

2541 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا يَقُولُ: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» . لَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو بال چمٹائے تلبیہ کہتے سنا ۱؎ کہ فرماتے تھے حاضر ہوں یا اﷲ حاضر ہوں،حاضر ہوں ۲؎ تیرا کوئی شریک نہیں حاضر ہوں،یقینًا حمد و نعت تیری ہے اور ملک تیرا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ان کلمات پر زیادتی نہ فرماتے تھے ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎  یھل اھلال سے بنا بمعنی چیخنا،شورمچانا،لغوی معنی ہیں چاند دکھانا مگر چونکہ چاند دکھاتے وقت شور مچاتے ہیں کہ وہ ہے چاند اس لیے اب اس کے معنی ہیں چلانا۔ملبدتلبید سے بنا بمعنی بال چپکانا کسی گوند وغیرہ سے تاکہ بال نہ اڑیں اور ان میں گردو غبار نہ بھرے، امام شافعی کے ہاں بحالت احرام تلبید جائز ہے،امام اعظم کے ہاں ممنوع کہ یہ سر ڈھکنے کے حکم میں ہے،یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے،اما م اعظم کے ہاں یہ تلبید لغوی معنی میں ہے یعنی بالکل مطلقًا جمع کرلینا،انہیں پریشان نہ رکھنا۔

۲؎ لبیك کا ترجمہ ہے حاضر جناب،یہ لفظ کسی پکارنے والے کے جواب میں بولا جاتا ہے،پکارنے والے حضرات ابراہیم خلیل اﷲ تھے کہ انہوں نے تعمیر کعبہ کے بعد چار آوازیں رب تعالٰی کے حکم سے دی تھیں"عباد اﷲ تعالوا الی بیت اﷲ"اے اﷲ کے بندو اﷲ کے گھر کی طرف آؤ،حاجی احرام باندھ کر اس پکار کا جواب دیتا ہوا جاتا ہے کہ حاضر جناب حاضر جناب،بعض نے فرمایا کہ پکارنے والے حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہیں،بعض نے فرمایا کہ خود رب تعالٰی ہے مگر پہلی بات قوی ہے۔(مرقات)

۳؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اکثر اوقات تلبیہ میں ان الفاظ پر زیادتی نہ فرماتے تھے کبھی زیادتی بھی فرماتے تھے،امام طحاوی کے ہاں زیادتی کرنا مکروہ ہے اسی بنا پرمگر دوسرے اماموں کے ہاں زیادتی جائز بلکہ مستحب ہے۔چنانچہ صحابہ و تابعین تلبیہ یوں کہتے تھے لَبَّیْكَ وَ سَعَدَیْكَ وَالْخَیْرُ کُلَّہٗ فِی یَدَیْكَ وَالرُّغَبَاءُ اِلَیْكَ وَالْعَمَلُ لَكَ لَبَّیْكَ اور بہت زیادتیاں فرماتے تھے جیساکہ کتب احادیث میں موجود ہے،ہاں منقولہ الفاظ سے کمی کرنا مکروہ ہے،مرد کو تلبیہ بلند آواز سے کہنا چاہیے اورعورت کو آہستہ آواز سے۔

2542 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً أَهَلَّ منَ عندِ مسجدِ ذِي الحليفة

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب اپنا پاؤں شریف رکاب میں داخل فرمایا اور آپ کو لے کر آپ کی اونٹنی سیدھی کھڑی ہوئی ۱؎ تو آپ نے ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس بآواز تلبیہ کہا ۲؎(مسلم،بخاری)۳؎

۱؎  یعنی حضور علیہ السلام نے ذوالحلیفہ(بیرعلی)پہنچ کر احرام کے نفل ادا کیے،پھر مکہ کی طرف روانگی کے لیے اونٹنی قصواء پر سوار ہوئے،جب اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوگئی۔

۲؎ یہ دوسری بار تلبیہ کہا پہلی بار نفل پڑھتے ہی کہا تھا کیونکہ احرام کے نفل پڑھتے ہی تلبیہ کہنا چاہیے،پھر بار بار کہتا رہے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں،نہ یہ حدیث ان احادیث کے خلاف ہے جن میں فرمایا گیا کہ آپ نے بعد نفل بیٹھے ہوئے تلبیہ کہا۔

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html