Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

الفصل الثالث

تیسری فصل

2533 -[29]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَحُجُّونَ فَلَا يَتَزَوَّدُونَ وَيَقُولُونَ: نَحْنُ الْمُتَوَكِّلُونَ فَإِذَا قَدِمُوا مَكَّةَ سَأَلُوا النَّاسَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: (وتزَوَّدُوا فإِنَّ خيرَ الزَّادِ التَّقوى)رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ یمن کے لوگ حج کرنے آتے تو توشہ ساتھ نہ لاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم متوکل لوگ ہیں ۱؎ پھر جب مکہ معظمہ پہنچے تو لوگوں سے سوال کرتے تھے۲؎ اس پر اﷲ تعالٰی نے یہ آیت اتاری کہ توشہ ساتھ لو کیونکہ بہترین توشہ سوال سے بچنا ہے۳؎(بخاری)

۱؎ یا تو یہ لوگ بالکل ہی توشہ ساتھ نہ لاتے تھے مانگتے کھاتے آتے تھے یا اس قدر تھوڑا توشہ لاتے تھے جو راستہ میں ہی خرچ ہوجاتا اور مکہ معظمہ پہنچ کر بے خرچ رہ جاتے،وہ اپنے کو متوکل کہتے تھے مگر  درحقیقت متاکل تھے یعنی مانگنے والے وہ کہتے تھے کہ ہم اﷲ کے گھر جارہے ہیں،اس کے مہمان ہیں، مہمان ساتھ کھانا کیوں لائے۔

۲؎ بلکہ جب بھیک مانگنے سے کام نہ چلتا تو چوری ڈکیتی کر تے تھے۔(مرقات)یہ غلط توکل آج بھی بعض نکموں کے دل میں سمایا ہوا ہے کہ بیکار رہنے بھیک مانگنے کو توکل کہتے ہیں حالانکہ توکل کے معنی یہ ہیں۔شعر

گر  توکل مے کنی دو کارکن                           کسب کن پس تکیہ برجبار کن

۳؎ یعنی دنیا میں حج وغیرہ کے موقعہ پر بقدر ضرورت توشہ تو ساتھ لو،یہ توشہ توکل کے خلاف نہیں۔پرہیزگاری اسی میں ہے کہ بھیک،چوری،ڈکیتی، قرض اور غضب سے بچا جائے۔صوفیائے فرماتے ہیں کہ دنیا کے سفر کا توشہ مال ہے اور آخرت کے سفر کا توشہ نیک اعمال،رب تعالٰی تک پہنچنے کا توشہ کمال۔

2534 -[30]

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ: الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا عورتو ں پر جہاد ہے فرمایا ہاں ان پر وہ جہاد ہے جس میں جنگ نہیں ۱؎ یعنی حج و عمرہ۔(ابن ماجہ)

۱؎ بلکہ ان کے جہاد میں سفر تھکن اور مشقت ہے جنگ نہیں،اسی مناسبت سے حج کو جہاد فرمایا،اس حدیث کی بنا پر بعض شوافع نے عمرہ کو واجب فرمایا کہ علٰی وجوب کے لیے آتا ہے اس کی بحث پہلے ہوچکی ہے۔

2535 -[31]

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ الْحَجِّ حَاجَةٌ ظَاهِرَةٌ أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ أَوْ مَرَضٌ حَابِسٌ فَمَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ فَلْيَمُتْ إِنْ شَاءَ يَهُودِيًّا وَإِنْ شَاءَ نَصْرَانِيًّا» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ

روایت ہے حصرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جس کو حج سے کوئی ظاہری ضرورت ہے یا  ۱؎ ظالم بادشاہ  ۲؎  یا روکنے والی بیماری نہ روکے ۳؎ پھر وہ حج کئے بغیر مرجائے تو چاہے یہودی ہو کر مرے اور چاہے عیسائی ہوکر مرے ۴؎(دارمی)

۱؎ جیسے فقیری یعنی توشہ و سواری پر قدرت نہ ہو نا کہ ہر دونوں چیزیں وجوب حج کی شرطیں ہیں۔

۲؎ یا تو خود اپنے ملک کا بادشاہ ظالم ہو کہ ظلمًا حج کو جانے کی اجازت نہ دیتا ہو یا راستہ میں کسی سلطان کی حکومت ہو وہ حجاج کو گزرنے نہ دیتا ہو یا مکہ معظمہ کا بادشاہ ظالم ہو کہ حجاج کو داخل نہ ہونے دے۔ان تینوں صورت میں راستہ کا امن مفقود ہے اور راستہ کا امن وجوب ادائے حج کی شرط ہے۔ظالم کی قید سے معلو م ہوا کہ اگر بادشاہ حجاج کو مہربانی و محبت سے روکے تو  اس کا  اعتبار نہیں حج فرض ہوگا۔(مرقات)

 



Total Pages: 445

Go To