Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

2519 -[15]

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ مَرَّتَيْنِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حج سے پہلے ذیقعدہ میں دوبار عمرے کیے  ۱؎ (بخاری)

۱؎ یہاں حقیقی عمرے مراد ہیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حقیقتًا کل تین عمرے کیے:دو تو حج سے پہلے،ایک حدیبیہ کی قضاء کا،دوسرا فتح حنین کے بعد جعرانہ سے احرام باندھ کر،تیسرا حج کے ساتھ جس کا احرام ذیقعدہ کی آخری تاریخوں میں باندھا اور افعال عمرہ چار ذی الحجہ کو  ادا  کیے جن راویوں نے چار عمروں کی روایت کی وہ حکمی عمرے کو بھی شامل کرکے ہے یعنی خود صلح حدیبیہ کے سال کا عمرہ لہذا  احادیث میں تعارض نہیں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2520 -[16]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ» . فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " لَوْ قُلْتُهَا: نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا وَلَمْ تَسْتَطِيعُوا وَالْحَجُّ مَرَّةٌ فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيّ والدارمي

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اے لوگو  اﷲ نے تم پر حج فرض کیا تو اقرع بن حابس کھڑے ہوگئے  ۱؎ عر ض کیا یارسول اﷲ کیا ہر سال فرمایا اگر ہم ہاں کہہ دیتے تو اسی طرح فرض ہوجاتا ۲؎ اور اگر یہ فرض ہوتا تو تم نہ عمل کرتے اور نہ کرسکتے پس حج تو ایک بار ہی ہے جو زیادہ کیا تو نفل کیا ۳؎ (احمد،نسائی، دارمی)۴؎

۱؎ اس کی شرح پہلے گزرچکی کہ اقرع ابن حابس نے حج کو روزہ اور زکوۃ پر قیاس کیا کہ جب وہ ہر سال ہوتے ہیں تو یہ بھی ہر سال چاہیے مگر چونکہ حج ہر سال واجب ہونے میں انہیں دشواری ہوگی اس لیے یہ سوال کیا۔خیال رہے کہ حضرت اقرع بن حابس فتح مکہ کے موقعہ پر بنی تمیم کے وفد میں حاضر ہو کر اسلام لائے اسلام سے پہلے بھی اور بعد اسلام بھی بہت شاندار بتائے گئے۔

۲؎  قُلْتُھَا میں ھَا کلمہ اقرع کی طرف لوٹ رہی ہے اور یہاں مضاف پوشیدہ ہے یعنی اگر ہم کلمہ اقرع کے جواب میں ہاں کہہ دیتے تو ایسا ہی ہوجاتا۔معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم مالک احکام ہیں جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا۔

۳؎ یعنی مکہ والوں اور غیر مکی پر عمر میں ایک بار ہی حج فرض ہے اس کے علاوہ نفل،بعض شافعی لوگ کہتے ہیں کہ ایک بار حج فرض عین ہے اس کے سواء فرض کفایہ۔یہ حدیث ان کے صراحتًا خلاف ہے اور اس کی احکام شرعیہ میں نظیر بھی نہیں ملتی ہاں جسے خدا قدرت دے اسے ہر پانچ سال میں ایک بار حج کرنا مستحب ہے۔ابن حبان نے مرفوعًا روایت کی کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جسے خدا تندرستی،مال اور قدرت دے،پھر وہ پانچ سال تک حج نہ کرے وہ محروم ہے،بعض لوگوں نے اس حدیث کی بنا پر پانچ سال میں ایک بار حج واجب مانا ہے مگر یہ خلاف اجماع ہے۔(مر قات)

۴؎  اسے دارقطنی،حاکم،ابوداؤد اور ابن ماجہ نے بھی روایت کیا علی شرط شیخین فرمایا۔(مرقاۃ)

2521 -[17]

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهُ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ وَلَمْ يَحُجَّ فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: (وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حَجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِليهِ سَبِيلا)رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ وَهِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَجْهُولٌ والْحَارث يضعف فِي الحَدِيث

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو شخص توشہ اور سواری کا مالک ہو جو اسے بیت اﷲ تک پہنچا سکے  ۱؎ پھر حج نہ کرے تو اس میں فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر ۲؎  اور یہ اس لیے ہے کہ اﷲ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے کہ لوگوں پر اﷲ کے لیے بیت اﷲ کا حج فرض ہے جو وہاں تک کا راستہ طے کرسکے ۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے جس کی اسناد میں کچھ گفتگو ہے،ہلال ابن عبداﷲ مجہول آدمی ہے اور حارث حدیث میں ضعیف مانا جاتا ہے۴؎

 



Total Pages: 445

Go To