Book Name:Tazkirah-e-Sadr-ul-Afazil

نہ رکھتے تھے ۔جب طلبہ عبارت پڑھ چکتے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کتاب پر تقریر فرماتے توایسا گمان ہوتا تھا کہ شاید صَدْرُ الافاضِل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہی اس کتاب کے مصنِّف ہیں جو کتاب کی گہرائیوں اور عبارت کے رُموزواَسرار کی وضاحت فرما رہے ہیں ۔عِلْمُ التَّوقِیت جسے علم ہَیْئَت بھی کہتے ہیں اس میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو خدادادمَہارت حاصل تھی ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مُتَعدّد کُرَّۂ فلکی تیّار کرائے جس میں سَبعہ ثَوابِت(یعنی سات آسمانوں ) اور سَیّارگان کو کُرَّہ میں چاندی کے نُقطوں سے واضح فرمایا۔جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ علمِ ہَیْئَتکی تعلیم دیتے تھے تو وہ کُرَّہ سامنے رکھ کرطَلَبَہ کو گویا آسمان کی سیر کرادیتے تھے۔تدریس میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی بے مثال مَہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فقیہِ اعظم ہند، شارِحِ بخاری حضرت مولانا مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللّٰہ الغنی فرماتے ہیں کہ ’’ میں نے مُدرِّس دو ہی دیکھے ہیں ایک صَدْرُ الشریعہ اور دوسرے صَدْرُ الافاضِل (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِما  ) ، فرق صرف اتنا تھا کہ صدرُ الشَّریعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس شُعبے سے زیادہ وابستہ رہے اور صدر ُالافاضِل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ذرا کم۔ ‘‘ آپ کے مشاہیرتلامذہ میں حضرتِ علامہ سیّدابوالبرکات احمدقادری(بانی دارالعلوم حزب الاحناف مرکز الاولیاء لاہور)، مفسرقرآن علامہ سیّدابولحسنات محمداحمد اشرفی (مرکزالاولیاء لاہور)، تاجُ العلماء مفتی محمدعمرنعیمی(باب المدینہ کراچی)، حکیم الامت مفتی احمدیار خان نعیمی(گجرات)، فقیہ اعظم مفتی محمدنور اللّٰہ نعیمی (بصیرپوراوکاڑہ)، مفتی سیّدغلام معین الدین نعیمی (مرکزالاولیاء لاہور)، مفتی محمدحسین نعیمی سنبھلی (بانی جامعہ نعیمیہ مرکزالاولیاء لاہور)، خلیفہ قطب مدینہ مولاناغلام قادراشرفی (لالہ موسیٰ)، مفتی محمد حبیب اللّٰہ نعیمی(شیخ الحدیث جامعہ نعیمیہ مرادآباد) رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم شامل ہیں ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دَارُ الْاِفْتاء

        صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل  اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوُجود دارُالافتاء بھی بڑی خوبی اور باقاعِدَگی کے ساتھ چلاتے، ہِندا وربیرون ہندنیز مُراد آباد کے اَطراف و اَکناف سے بے شمار اِسْتِفْتا اور اِسْتِفْسَارات آتے اور تمام جوابات آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ خود عنایت فرماتے۔ بِفَضلہ  تَعَالٰی فِقہی جُزْئِیّات(جُز۔ئی۔یات) اس قدر مُسْتَحْضَر (مُسْ۔تَح۔ضَر۔ یعنی ذِہن میں رہتے) تھے کہ جوابات لکھنے کے لیے کُتُبْہَائے فِقْہ کی طرف مُراجَعَت(رُجوع کرنے) کی ضَرورت بہت ہی کم پیش آتی۔ شہزادۂ صَدْرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ سیِّد اِخْتِصاصُ الدّین  علیہ رحمۃ اللّٰہ المبین فرمایا کرتے تھے کہ میراث وفرائض کے فتوے کثرت سے آتے مگر حضرت کو جواب لکھنے کے لیے کتاب دیکھتے ہوئے نہیں دیکھا آج تو ایک بَطْن دو بَطْن چار بَطْن کے فتوے اگر دارُ الافتاء میں آجائیں تو گھنٹوں کتابیں دیکھی جاتی ہیں تب کہیں جاکر فتوے کا جواب لکھا جاتا ہے مگر حضرتِ صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کا یہ حال تھا کہ بیس بیس اکیس اکیس بُطُون (پَیڑ ھیوں ) کے فتوے بھی دار الافتاء میں آگئے مگر حضرت بغیر کتاب دیکھے جواب تحریر فرما دیتے تھے البتہ انگلیوں پر کچھ شمار کرتے ضرور دیکھا جاتا اور آپ کے فتوے کے اِسْتِرداد(رد کرنے) کی کبھی نوبت نہیں آئی۔

خوش نویسی

        صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کی خَطّاطی ایسی عمدہ اور قواعد کے مطابق تھی کہ سینکڑوں خوش نویس اِس فن میں آپکے شاگرد ہیں ۔ مزید برآں آپ خطاطی کے ساتوں طرزِ تحریر میں بے مثال کمال رکھتے تھے۔

ترجمہ’’  کنزالایمان‘‘ کی پہلی اشاعت

        اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن کے شہرۂ آفاق ترجمۂ قراٰن ’’ کنزالایمان ‘‘ کی اَوَّلین اشاعت کا سہرا بھی صَدْرُ الافاضِل مولانا نعیم الدین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللّٰہ الھادی کے سر ہے ۔ کنزُالایمانکی اوّلین، عمدہ اور خوبصورت طباعت کے لئے صَدْرُ الافاضِلعلیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل نے جامعہ نعیمہ مُراد آباد میں ذاتی پریس لگوایا۔جس میں کام کرنے والے سارے اَفرادخوش عقیدہ مسلمان تھے جو باوُضو ہو کرکنزُالایمان کی کتابت سے لے کر جِلد سازی تک کے تمام مَراحِل بڑے اِنہِماک اور عقیدت سے طے کرتے تھے۔ اس سارے عمل کی نگرانی صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل خود کرتے تھے۔آج دنیا میں جوکنزُالایمان دستیاب ہے یہ وُہی ’’ کنزالایمان ‘‘ہے جسے صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل نے شائع کرایا تھا۔پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کنزُالایمان پر تفسیری حاشیہ بنام’’ خَزائِنُ الْعِرْفَان فِیْ تَفْْسِیْرِ الْقُرْاٰن‘‘لکھا جو اپنی نوعیت کے اِعتبار سے پہلا مکمل حاشیہ ہے اور اِس کی مقبولیت کا اندازہ صرف اس ایک بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ آج کنزُالایمان اور خزائنُ العرفان دونوں لازِم ومَلزوم ہیں ۔اَ لْحَمْدُللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے ’’مکتبۃُ المدینہ‘‘ نے بھی کنزالایمان مع خزائن العرفان بہت خوبصورت انداز میں شائع کرنے کی سعادت پائی ہے ۔علاوہ ازیں دعوتِ اسلامی کی مجلس آئی ٹی(I.T) نے ایک سافٹ وئیر سی ڈی (cd) مکتبۃ المدینہ کے ذریعے پیش کی ہے جس میں تلاوت سننے کے ساتھ ساتھ ترجمہ کنزالایمان اور تفسیر خزائن العرفان کا مطالعہ بھی کیا جاسکتا ہے نیز سرچ آپشن (Search option)کے ذریعے مطلوبہ آیت ، ترجمہ یا تفسیر بھی تلاش کی جاسکتی ہے ، یہ سافٹ وئیر دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ   www.dawateislami.net پر بھی موجود ہے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

والِد صاحب کی رِحلت اور اعلٰی حضرت کا تعزیعت نامہ

        صَدْرُ الافاضِل علیہ رحمۃ اللّٰہ العادِل کے والدِ بُزُرگوار ، استاذُ الشُّعراء حضرت مولانا مُعینُ الدین صاحِب نُزْہَتؔ   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العِزَّۃ کے مُرید تھے ، ایک شِعر میں اپنی عقیدت کا اظہار یوں کرتے ہیں :     

پِھرا ہوں میں اُس گلی سے نُزْہَتؔ ، ہوں جس میں گمراہ شیخ وقاضی

 



Total Pages: 7

Go To