Book Name:Nisab-ul-Mantiq

٭…٭…٭…٭

سبق نمبر :  3

{…تصور وتصدیق کی اقسام…}

            تصور وتصدیق میں سے ہر ایک بدیہی بھی ہوتاہے اور نظری بھی ۔  اس طرح ان کی کل چار قسمیں بن جائیں گی ۔

۱ ۔ تصور بدیہی       ۲ ۔ تصور نظری     ۳ ۔  تصدیق بدیہی      ۴ ۔  تصدیق نظری

۱ ۔  تصوربدیہی :

            وہ تصور ہے جس میں نظر وفکریعنی دلیل کی ضرورت نہ ہو اسے ’’ تصورِ ضَرُورِی‘‘ بھی کہتے ہیں جیسے :  گرمی اورسردی کا تصور، خوشبو اور بدبوکاتصور، میٹھے اورکڑوے کا تصور ۔

۲ ۔ تصور نظری :  

            وہ تصور ہے جس میں نظر وفکریعنی دلیل کی ضرورت ہو اسے ’’ تصورِ کَسْبِی‘‘ بھی کہتے ہیں جیسے :  فرشتے اور جن کا تصور، انسان اور حیوان کی حقیقتوں کا تصور ۔

۳ ۔ تصدیق بدیہی :

            وہ تصدیق ہے جس میں  نظر وفکریعنی دلیل کی ضرورت نہ ہو اسے ’’ تصدیقِ ضروری‘‘ بھی کہتے ہیں جیسے :  دوچار کا نصف ہے ، آگ گرم ہے ، چینی میٹھی ہے ، برف ٹھنڈی ہے ۔

۴ ۔  تصدیق نظری :

            وہ تصدیق ہے جس میں نظر وفکریعنی دلیل کی ضرورت ہو اسے ’’ تصدیقِ کَسْبِی‘‘ بھی کہتے ہیں ۔  جیسے :  عالَم قدیم نہیں ہے ، صانع موجود ہے ۔

٭٭٭٭٭

سبق نمبر :  4

{…منطق کی حاجت کیوں ؟…}

            نظریات تصوریہ اور تصدیقیہ کو حاصل کرنے کیلئے نظر وفکرکی ضرورت ہوتی ہے اورہر نظروفکر درست نہیں ہوتی بلکہ نظروفکر میں غلطی واقع ہوسکتی ہے ۔  اور یہ غلطی انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بعض لوگوں کایہ نظریہ ہے کہ عالم قدیم ہے (یعنی ہمیشہ سے ہے ) وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ عالم مُؤَثِّرسے مُسْتَغْنِی ہے (یعنی کوئی عالَم کو نہیں چلا رہابلکہ یہ نظام خود ہی چل رہا ہے ) اور ہر وہ شی جو موثر سے مستغنی ہو وہ قدیم ہوتی ہے لہذا عالم قدیم ہے ۔ حالانکہ یہ نظریہ عقائدِ اسلام کے خلاف ہے کیونکہ عقائد اسلام کے مطابق عالم قدیم نہیں بلکہ حادث ہے ۔ (یعنی پہلے نہ تھا بعد میں موجود ہوا) اور اس کی دلیل یہ ہے کہ عالم مُتَغَیِّر ہے اورہر متغیر چیز حادث ہے ۔  لہذا عالم حادث ہے ۔ اس سے معلوم ہواکہ نظروفکر میں غلطی واقع ہوسکتی ہے اوراس غلطی سے بچنا ازحد ضروری ہے اور غلطی سے اسی وقت بچا جا سکتاہے جب ہمیں ایسے قوانین کا علم ہو جو نظروفکر میں غلطی کی نشاندہی کریں  ۔ ایسے قوانین ’’علم منطق ‘‘سے جانے جاتے ہیں  ۔ لہذا یہ بات واضح ہو گئی کہ علم منطق کو جاننا بہت ضروری ہے تاکہ نظروفکر میں غلطی سے بچا جاسکے ۔

            مذکورہ بالاگفتگو میں نظروفکر کا لفظ استعمال ہوالہذا نظر وفکر کی تعریف ذکر کی جاتی ہے ۔  

نظروفکر کی تعریف :

’’تَرْتِیْبُ أُمُوْرٍ مَعْلُوْمَۃٍ لِیَتَأَدّٰی ذَالِکَ التَّرْتِیْبُ اِلیٰ تَحْصِیْلِ الْمَجْھُوْلِ‘‘

یعنی امور معلومہ کو اس طرح ترتیب دینا کہ اس ترتیب سے کسی امر مجہول کا علم حاصل ہو، جیسے ہمیں معلوم ہے کہ عالم متغیر ہے اوریہ بھی معلوم ہے کہ ہرمتغیر چیز حادث ہے جب ہم نے ان دونوں کو ترتیب دیا کہ عالم متغیر ہے اور ہرمتغیر چیز حادث ہے تو ہمیں تیسری چیز معلوم ہوئی کہ عالم حادث ہے ۔  

٭٭٭٭٭

مشق

سوال نمبر1 :  ۔ منطق کی اصطلاحی تعریف، موضوع اور غرض وغایت بیان کریں  ۔

سوال نمبر2 :  ۔ تصورو تصدیق کی اقسام مع امثلہ بیان کریں  ۔

سوال نمبر3 :  ۔ منطق کی ضرورت پر بحث کریں  ۔

سوال نمبر4 :  ۔ نظر و فکر کی اصطلاح کی وضاحت مثال کے ذریعے کیجیے ۔

سوال نمبر5 :  ۔ درج ذیل امثلہ میں تصور و تصدیق نیزانکی اقسام کی پہچان کریں  ۔

            زید کا قلم،  دھوپ،  جن،  آسمان،  زمین،  قرآن،  حدیث،  

            سورج موجود ہے ۔   حرارت،  آسمان نیلا ہے ۔   پاکستان ہمارا وطن ہے ۔  

٭…٭…٭…٭

 ٭…اشارہ اور دلالت میں فرق…٭

 



Total Pages: 54

Go To