Book Name:Nisab-ul-Mantiq

            موجبہ جزئیہ کا عکس نقیض نہ آنے کی وجہ یہ ہے کہ موجبہ جزئیہ کاعکس نقیض صرف موجبہ جزئیہ ہی آسکتاہے اوریہ ہرجگہ سچا نہیں ہوتابلکہ بعض مقامات پر جھوٹا بھی ہوتاہے ۔  

جیسے بَعْضُ الْحَیَوَانِ لاَفَرَسٌ توسچا ہے مگر اس کاعکس نقیض (بَعْضُ الْفَرَسِ لاَحَیَوَانٌ) جھوٹاہے  ۔ حالانکہ ما قبل گذر چکا کہ اگر قضیہ عکس سے پہلے سچاتھاتو بعد میں بھی سچا ہی رہے ۔

٭٭٭٭٭

مشق

سوال نمبر1 :  ۔ عکس نقیض کی تعریف بیان کریں  ۔

سوال نمبر2 :  ۔ محصورات اربعہ کا عکس نقیض تحریر کریں  ۔

سوال نمبر3 :  ۔ مندرجہ ذیل کا عکس نقیض لکھیں  ۔

بعض لا انسان لا حیوان نہیں ۔ کوئی انسان پتھر نہیں ۔ ہر محنتی کامیاب ہے ۔  ہر انسان جاندار ہے ۔   ہر انسان حیوان ہے ۔  کوئی گھوڑا انسان نہیں  ۔

٭…٭…٭…٭

٭…غلط اور غلت میں فرق…٭

            دونوں کے معنی خطا کرنے کے ہیں پھر دونوں میں باہمی فرق اس قدر ہے کہ غلط کا تعلق کلام سے ہے اور غلت کا تعلق حسابات سے ہے ’’کما یقال قد غلط فی کلامہ وقد غلت فی حسابہ، کذا قالہ العلامۃ السیوطی‘‘ ۔

سبق نمبر :  41

{…حجت اوراسکی اقسام…}

            منطق کاموضوع معلومات تصوریہ اورمعلومات تصدیقیہ ہیں  ۔ معلومات تصوریہ کا بیان تفصیلا گزرچکااب معلومات تصدیقیہ کوبیان کیاجاتاہے ۔  وہ معلومات تصدیقیہ جو مجہول تصدیقی تک پہنچا دیں انہیں حجت کہتے ہیں اوراسکی تین قسمیں ہیں ۔

۱ ۔  قیاس             ۲ ۔  استقراء                      ۳ ۔  تمثیل

قیاس کابیان

قیاس کی تعریف :

            ’’ھُوَقَوْلٌ مُؤَلَّفٌ مِنْ قَضَایَا یَلْزَمُ عَنْھَا قَوْلٌ ٰاخَرُبَعْدَ تَسْلِیْمِ تِلْکَ الْقَضَایَا‘‘ قیاس اس قول کو کہتے ہیں جو چند ایسے قضایا سے مرکب ہو کہ ان کو تسلیم کرنے کے بعد ایک اورقضیہ ماننا لازم آئے  ۔ جیسا کہ ہر سنی مومن ہے اور ہر مومن نجات پانے والا ہے ان دونوں کوتسلیم کر لینے کے بعد ہمیں ماننا پڑتاہے کہ ہر سنی نجات پانے والا ہے ۔ قیاس کی اقسام کا تفصیلی بیان آگے آئے گا اس سے پہلے چند ضروری اصطلاحات کو بیان کیا جاتا ہے  ۔

قیاس سے متعلقہ چند ضروری اصطلاحات

مقدمات قیاس :

            جن قضایا سے قیاس مرکب ہوتاہے انہیں مقدماتِ قیاس کہا جاتاہے ۔  جیسے أَلْعَالَمُ مُتَغَیِّرٌ وَکُلُّ مُتَغَیِّرٍ حَادِثٌ ۔ نتیجہ اَلْعَالَمُ حَادِثٌ ۔ اس مثال میں اَلْعَالَمُ مُتَغَیِّراورکُلُّ مُتَغَیِّرٍ حَادِثٌ  ۔ دو قضایا ہیں جن سے قیاس مرکب ہے یہ قضایا مقدمات قیاس کہلائیں گے ۔  اس کا نتیجہ اَلْعَالَمُ حَادِثٌ ہے ۔   

اصغر :

            نتیجہ کے موضوع کو اصغر کہتے ہیں ۔ جیسے مذکورہ بالا مثال میں اَلْعَالَمُ ۔

اکبر :

            نتیجہ کے محمول کواکبر کہتے ہیں ۔ جیسے مذکورہ بالا مثال میں  حَادِثٌ ۔

صغری :

            قیاس کے جس مقدمہ میں اصغر مذکور ہواسے صغری کہاجاتاہے ۔ جیسے مذکورہ بالامثال میں  أَلْعَالَمُ(جو کہ اصغرہے )اور قیاس کے پہلے مقدمہ میں ہے لہذا یہ مقدمہ صغری کہلائے گا ۔

کبری :

            قیاس کے جس مقدمہ میں اکبر مذکور ہواسے کبری کہاجاتاہے ۔ جیسے مذکورہ مثالوں میں  ۔ حَادِثٌ(جو کہ اکبر ہے )اور قیاس کے دوسرے مقدمے میں موجود ہے ۔ لہذا یہ مقدمہ کبری کہلائے گا ۔  

حداوسط :

            جو چیز قیاس کے مقدمات میں مکرر مذکور ہو  ۔ جیسے مذکورہ مثال میں متغیر ۔

قرینہ اورضرب :

 



Total Pages: 54

Go To