Book Name:Nisab-ul-Mantiq

رکھی ، پھر یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ درس نظامی میں سولہ منطق کی کتابیں داخل ہوگئیں ۔

معلمین منطق

معلم اول :

            سب سے پہلے ارسطاطالیس نے اس فن کو مدون کیا لہذ ااسے معلم اول کہا جاتا ہے ۔  یہ  ۳۸۴؁قبل مسیح مقدونیہ (یونان کاشہر) کی بستی تاجرہ میں پیداہوا یہ حکیم افلاطون کا شاگر دتھا اورافلاطون، سقراط کا اورسقراط فیثاغورث کا اور فیثاغورث، حضرت سلیمان علیہ السلام  کے شاگرد تھے ۔  ارسطاطالیس نے اٹھارہ سال کی عمر میں تمام مروجہ علوم حاصل کرکے اپنے استاد افلاطون کے مدرسہ جوکہ اثنیہ میں تھا تدریس شروع کردی تھی ۔ اوریہ سکندراعظم کا استادتھا اس کوارسطو بھی کہاجاتاہے  ۔ اس کی وفات ۳۲۲ قبل مسیح میں ہوئی ۔

معلم ثانی :

            ارسطو نے جب اس علم کومدون کیا تویہ علم صرف یونان میں رہا بنو عباس کے دور خلافت میں خلیفہ ہارون الرشید نے اس کی کتب یونان سے منگواکر محمدبن طرخان فارابی سے ان کتب کاعربی میں ترجمہ کروایا ۔ فارابی نے اپنی طرف سے بھی کچھ اضافے کیے اس لئے ان کو منطق کا معلم ثانی کہاجاتاہے ۔  آپ ۲۶۰ھ میں پیداہوئے اور ان کی وفات ۳۳۹ھ میں ہوئی ۔

معلم ثالث :

            فارابی کی کتب ضائع ہونے کے بعد ابوعلی ابن سینانے ازقسرنو اس علم کومدون کیا اس لئے اسکو معلم ثالث کہاجاتاہے اس کا شمار ذہین وفطین لوگوں میں ہوتاتھا ۔ اس کے حواس خمسہ بہت تیز تھے یہاں تک کہ اگر بارہ میل دورکوئی چکی چل رہی ہوتی تواس کے شور کی وجہ سے اسے نیند نہیں آتی تھی ۔  اس کی پیدائش ۳۷۳ھ اوروفات ۴۲۷ھ میں ہوئی ۔

معلم رابع :

                علامہ محمد فضل حق خیر آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی کو کہا جاتاہے جو کہ حضرت علامہ مولانا فضل امام خیر آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادیکے فرزند ارجمند تھے ۔  آپ نے تمام علوم نقلیہ وعقلیہ محدث شہیر شاہ عبد القادر محدث دہلویعلیہ رحمۃ اللہ القوی سے حاصل کئے ۔ چار ماہ کے قلیل عرصے میں حافظ قرآن کریم بن گئے اور صرف ۱۳سال کی چھوٹی سی عمر میں فارغ التحصیل ہو کر بڑے بڑے علوم میں تبحر حاصل کرلیا  ۔ منطق وفلسفہ ودیگر علوم عقلیہ میں کمال درک رکھنے کے ساتھ ساتھ نہایت فصیح وبلیغ تھے ۔ نظم ونثر دونوں میں کلام کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ بچپن میں اپنے والدصاحب کے ساتھ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویعلیہ رحمۃ اللہ القویکے ہاں حاضر ہوئے اور اپنی فصیح عربی نظم کے اشعار پرھے ، جس پر محدث صاحب نے ترکیبی اعتراضات کئے ، لیکن علامہ صاحب نے برجستہ فصحائے عرب کے ۳۰ اشعار بطور استشہاد پیش کر دیئے ۔ یہ دیکھ کر محدث صاحب علامہ صاحب کے استحضار وجودت طبع سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ، بلکہ علامہ صاحب تو مزید اشعار بطور استشہاد پیش کرنے لگے تھے کہ والد ماجد صاحب نے منع فرمادیا ۔  آپ کی بہت سے تصانیف ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں  : (۱) حاشیہ بر قاضی مبارک (۲) حاشیہ بر الافق المبین (۳) الہدیۃ السعیدیہ(۴) امتناع النظیر در ردوہابیہ (۵) الروض المجود ۔  اس کے علاوہ بھی اور کتب وحواشی علامہ صاحب کی یادگار ہیں  ۔ آپ کا انتقال ۱۲۷۸ھ میں ہوا ۔ اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔  

٭٭٭٭٭

 بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

سبق نمبر1

{…ابتدائی باتیں …}

علمِ منطق کی تعریف :

            منطق کالغوی معنی گفتگو کرنا ہے جبکہ اصطلاح میں اس کی تعریف یہ ہے :  ’’عِلْمٌ بِقَوَانِیْنَ تَعْصِمُ مُرَاعَاتُھَا الذِّھْنَ عَنِ الْخَطَائِ فِی الْفِکْرِ‘‘یعنی ایسے قوانین کا جاننا  جن کا لحاظ ذہن کوغوروفکرمیں غلطی سے بچالے ۔

موضوع :

            وہ معلومات تصوریہ اور معلومات تصدیقیہ جو مجہول تصوری اور مجہول تصدیقی تک پہنچا دیں  ۔ (معلومات تصوریہ کی تفصیل سبق نمبر 26، اور معلومات تصدیقیہ کی تفصیل سبق نمبر41میں آئے گی ۔ )

غرض وغایت :

            کسی چیز میں غوروفکر کرتے وقت ذہن کو غلطی سے بچانا ۔

واضع :

            علم منطق کو سب سے پہلے ارسطو نے سکندر رومی کے حکم سے وضع کیا ۔  

وجہ تسمیہ :

            منطق مصدرمیمی ہے جس کا معنی ہے گفتگو کرنا  ۔ کیونکہ یہ علم ، ظاہری اور باطِنِی نُطْقْ  میں نکھار پیدا کرتا ہے اس لئے اسے منطق کہتے ہیں ۔ نطقِ ظاہری(تکلّم) میں نکھار سے  مرادیہ ہے کہ اس علم کا جاننے والا دوسروں کے مقابلے میں اچھے انداز سے گفتگو کر سکتاہے ۔ اور نطق باطنی(ادراک) میں نکھارسے مراد یہ ہے کہ اس علم کا جاننے والا اشیاء کے حقائق یعنی ان کی اجناس اورفصول وغیرہ سے واقف ہو جاتاہے ۔  

نوٹ :

            اس علم کو’’ علم میزان‘‘ (ترازو) بھی کہتے ہیں کیونکہ اس علم کے ذریعے عقل ٗصحیح اور غلط فکروں میں موازنہ کرتی ہے ۔  اسی طرح اس علم کو’’ علم آلی‘‘ بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ دوسرے



Total Pages: 54

Go To