Book Name:Nisab-ul-Mantiq

کی صورت میں استاد پر بدگمانی کے بجائے اسے اپنا قصور تصور کروں گا{۱۸}کتابت وغیرہ میں شَرْعی غلَطی ملی تو نا شرین کو تحریری طور پَر مُطَّلع کروں گا(مصنّف یاناشِرین وغیرہ کو کتا بوں کی اَغلاط صِرْف زبانی بتاناخاص مفید نہیں ہوتا){۱۹}کتاب کی تعظیم کرتے ہوئے اس پرکوئی چیزقلم وغیرہ نہیں رکھوں گا ۔ اس پر ٹیک نہیں لگاؤں گا ۔

٭٭٭٭

٭علماء کی شان٭

            اللہ عزوجل کے محبوب دانائے غیوب ، منزہ عن العیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان پرنور ہے کہ :  ’’جنتی جنت میں علماء کرام کے محتاج ہوں گے ، اس لیے کہ وہ ہر جمعہ کو اللہ تعالی کے دیدار سے مشرف ہوں گے ۔  اللہ تعالی فرمائے گا :   ((  تَمَنَّوا عَلَیَّ مَا شِئْتُمْ))  ’’یعنی مجھ سے مانگو جو چاہو‘‘، وہ جنتی علماء کرام کی طرف متوجہ ہوں گے کہ اپنے رب کریم سے کیا مانگیں ؟ وہ فرمائیں گے :  ’’یہ مانگو وہ مانگو‘‘ ۔  یعنی جیسے لوگ دنیا میں علماء کرام کے محتاج تھے جنت میں بھی ان کے محتاج ہونگے ۔ (’’الجامع الصغیر‘‘ للسیوطی، الحدیث :  ۲۲۳۵، ص۱۳۵)

 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

 المد ینۃ العلمیۃ

از : بانیِ دعوتِ اسلامی ، عاشق اعلیٰ حضرت، شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ

الحمد للّٰہ علی اِحْسَا نِہٖ وَ بِفَضْلِ رَسُوْلِہٖصلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم

      تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی‘‘نیکی کی دعوت، اِحیائے سنّت اور اِشاعتِ علمِ شریعت کو دنیا بھر میں عام کرنے کا عزمِ مُصمّم رکھتی ہے ، اِن تمام اُمور کو بحسن وخوبی سر انجام دینے کے لیے متعدِّد مجالس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن میں سے ایک مجلس’’المد ینۃ العلمیۃ‘‘ بھی ہے جو دعوتِ اسلامی کے عُلماء و مُفتیانِ کرام کَثَّرَ ھُمُ اللّٰہُ تعالی پر مشتمل ہے ، جس نے خالص علمی، تحقیقی او راشاعتی کام کا بیڑا اٹھایا ہے ۔

             اس کے مندرجہ ذیل چھ شعبے ہیں  :

            (۱)شعبۂ کتُبِ اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  (۲)شعبۂ درسی کُتُب 

            (۳) شعبۂ اِصلاحی کُتُب                                        (۴)شعبۂ تفتیشِ کُتُب

            (۵)شعبۂ تراجِم کُتُب                                               (۶)شعبۂ تخریج

            ’’ا لمد ینۃ العلمیۃ‘‘کی اوّلین ترجیح سرکارِ اعلیٰحضرت اِمامِ اَہلسنّت، عظیم البَرَکت، عظیم المرتبت، پروانۂ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین و مِلَّت، حامی ٔ سنّت، ماحی ٔبِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت،  پیرِ طریقت، باعثِ خَیْر و بَرَکت، حضرتِ علاّمہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری الشّاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی گِراں مایہ تصانیف کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق حتَّی الْوَسعسَہْل اُسلُوب میں پیش کرنا ہے ۔  تمام اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں اِس عِلمی ، تحقیقی اور اشاعتی مدنی کام میں ہر ممکن تعاون فرمائیں اورمجلس کی طرف سے شائع ہونے والی کُتُب کا خود بھی مطالَعہ فرمائیں اور دوسروں کو بھی اِ س کی ترغیب دلائیں  ۔

            اللہ عزوجل ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کی تمام مجالس بَشُمُول’’المد ینۃ العلمیۃ‘ کو دن گیارہویں اور رات بارہویں ترقّی عطا فرمائے اور ہمارے ہر عملِ خیر کو زیورِ اخلاص سے آراستہ فرماکر دونوں جہاں کی بھلائی کا سبب بنائے ۔ ہمیں زیرِ گنبدِ خضراء شہادت،  جنّت البقیع میں مدفن اور جنّت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے ۔

                                                               اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

  

           رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ

پیش لفظ

الحمد للہ رب العلمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین اما بعد!

            ہر فن کی ایک مسلمہ حیثیت ہے جیسے عربی عبارات کو حل کرنے کے لیے علم صرف ونحو کے قواعد کو جاننا اور اس کے قوانین کی پابندی کرنا لازمی ہے ایسے ہی کسی چیز میں غوروفکراور اس سے نتیجہ نکالنے میں غلطی سے بچنے کیلئے علم منطق کے اصول وقواعد کو جاننا اور اس کی پابندی کرنا ازحد ضروری ہے ۔ مگرا فسوس! اسے ’’ فضول وناکارہ، غامض ودقیق ودشوار‘‘ جیسی صفات سے



Total Pages: 54

Go To